خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 19

$1951 19 خطبات محمود ا چلی جاتی ہے اور جب مرکز سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے تو قو میں گرنے لگ جاتی ہیں۔جیسے پہاڑوں پر چڑھائی مشکل ہوتی ہے لیکن جب لوگ کسی پہاڑ پر چڑھنا چاہیں تو اپنی مدد کے لیے کھڈ سٹک پکڑ لیتے ہی ہیں۔پھر اور مشکل پیش آئے تو درختوں کی شاخیں پکڑ لیتے ہیں۔اور زیادہ خطرناک راستے آ جائیں تو وہاں واقف کار لوگ میخیں گاڑ کر اُن کے ساتھ رستے باندھ دیتے ہیں تا کہ اُن کا سہارا لے کر لوگ اوپر چڑھ سکیں یا جہاں ایسی سیڑھیاں آجائیں جن سے گرنے کا خطرہ ہو وہاں میخوں کے ساتھ لوگوں نے رستے باندھے ہوئے ہوتے ہیں جن کے سہارے لوگ اوپر چڑھ جاتے ہیں۔اسی طرح مرکز کمزوروں اور گرنے والوں کے لیے ایک سہارا ہوتے ہیں اور وہ لوگ جو اپنے اندر کمزوری محسوس کرتے ہیں مرکز کے رستوں کو پکڑ کر مضبوطی حاصل کر لیتے ہیں۔اسی لیے قرآن کریم نے خلافت کو رحمت قرار دیا ہے اور مومنوں کے ساتھ اُس نے خلافت کا وعدہ کیا ہے 1 مگر ساتھ ہی فرمایا ہے کہ یہ انعام ہے۔اور انعام کے وعدے اور حکم میں فرق ہوتا ہے۔حکم بہر حال چلتا چلا جاتا ہے اور انعام صرف اُس وقت تک رہتا ہے جب تک انسان اُس کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔جب مستحق نہیں رہتا تو انعام اُس سے واپس لے لیا جاتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف چار خلافتیں ہوئیں مگر عیسائیوں کی خلافت آج تک قائم ہے۔اسلامی خلافت کا زمانہ صرف تمہیں سال تک رہا اور عیسائیوں کی خلافت پر انیس سو سال گزر چکے ہیں اور وہ ابھی تک قائم ہے۔بیشک جہاں تک روحانیت کا سوال ہے ان کی خلافت کا روحانیت سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے اور انہوں نے آپ کو نہیں مانا تو وہ ایمان سے خارج ہو گئے اور کافروں میں شامل ہو گئے۔اسی طرح جہاں تک نیکی کا سوال ہے وہ بھی ان میں نہیں پائی جاتی۔اگر ان میں نیکی ہوتی تو لوٹ کھسوٹ اور کینہ اور کپٹ اور ناجائز تصرف اور دباؤ وغیرہ کی عادتیں ان میں کیوں پائی کی جاتیں۔لیکن جہاں تک عیسائیت کو قائم رکھنے کا سوال ہے یہ خلافت اس کو قائم رکھنے کا ایک بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوئی ہے اور اسی وجہ سے آج بھی عیسائی کروڑوں کروڑ روپیہ عیسائیت کی اشاعت کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔بظاہر ان کا مرکز اپنی طاقت کو کھو چکا ہے۔چنانچہ پہلے بادشاہت بھی پوپ کے ساتھ ہوا کرتی تھی مگر آہستہ آہستہ بادشاہتیں الگ ہو گئیں اور اب محض چند میل کا علاقہ ادب کے طور پر پوپ کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے تا کہ اس علاقہ میں وہ اپنے آپ کو حاکم سمجھ لے۔پانچ دس میل لمبا