خطبات محمود (جلد 32) — Page 18
$1951 18 خطبات محمود روح وغیرہ شامل ہیں اور یہی چیزیں قومی زندگی کی علامت ہوتی ہیں۔جس طرح فردی زندگی کی کی علامتوں میں دیکھنا سننا، بولنا، کھانا، سانس لینا اور فیصلے کا خارج کرنا ہے اور ان علامتوں کو دیکھ کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ ایک چیز زندہ ہے۔اسی طرح جب ہم کسی جماعت کے اندر یہ دیکھتے ہیں کہ اُس میں ترقی کا احساس پایا جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ جماعت کے قیام کے لیے اُس میں قربانی کا احساس پایانی جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے اور اسے زیادہ سے زیادہ نمایاں کرنے کا احساس اس میں پایا جاتا ہے، جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے ایک حصہ پر جب حملہ ہوتا ہے تو باقی سارا حصہ اُس کی اذیت کو محسوس کرتا ہے اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ سب کے سب افراد ایک مرکز کی طرف مائل ہیں جو اسلام میں خلیفہ ہوتا ہے۔جس طرح جسم کے حصے دل کی طرف جھکے ہوئے ہوتے ہیں تو ان علامتوں کو دیکھ کر ہم سمجھ لیتے ہیں کہ اس جماعت میں زندگی کا مادہ پایا جاتا ہے بلکہ اصل زندگی تو ہی الگ رہی جو تو میں صداقت سے دور ہیں اور جن میں صرف ایک مصنوعی زندگی پائی جاتی ہے وہ بھی بعض دفعہ بڑی بڑی قربانی کرتی نظر آتی ہیں۔پچھلے دو سال میں دو دفعہ سر آغا خان کراچی آئے ہیں۔مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ گلگت سے جو ہزاروں میل پر ہے آغا خانی مذہب کے لوگ چل کر کراچی پہنچے اور آغا خان سے ملے۔اُن میں ایسے طبقہ کے لوگ بھی تھے جو د نیوی لحاظ سے بہت بڑے سمجھے جاتے ہیں۔چنانچہ دو تو نواب ہی تھے جو گلگت سے کراچی آئے۔اس دفعہ بھی اُن کے آنے پر میں نے دیکھا ہے کہ اخباروں میں لکھا تھا کہ سینکڑوں میل سے لوگ ان سے ملنے کے لیے آئے ہیں۔اب آغا خانیوں میں جان تو نہیں۔ایک انسان کو خدا ماننے والوں یا دنیا میں اسے خدائی کا قائم مقام ماننے والوں میں حقیقی زندگی کہاں ہوسکتی ہے۔مگر جو سیاسی زندگی ہے وہ ان میں پائی جاتی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ہمارے جتھے کی تقویت کا ذریعہ یہی ہے کہ ہم ایک شخص کے پیچھے چلیں۔اور وہ بعض دفعہ ایسا مظاہرہ بھی کرتے ہیں جس سے وہ دنیا پر یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ ہم ایک ہاتھ پر جمع ہیں گو وہ ہاتھ تسکتی ہی کیوں نہ ہو اور گو وہ ہاتھ ایسے غلط عقیدہ کے ساتھ وابستہ ہی کیوں نہ ہو جسے انسان کی فطرت کبھی مان نہیں سکتی۔تو زندگی کے آثار میں سے جماعتی احساس بھی ہوتا ہے۔اور جماعتی احساس کا ثبوت جیسا کہ اسلام نے بتایا ہے ہمیشہ ایک مرکز کے ساتھ تعلق رکھنے کے ذریعہ ملتا ہے۔جب تک مرکز کے ذریعہ وحدت قائم رہتی ہے ترقی ہوتی