خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 201

$1951 201 خطبات محمود عَلَى الْفَلَاحِ اے لوگو! کامیابی کا رستہ کھل گیا ہے دوڑو اور اس پر پروانہ وار گر جاؤ۔تو آب چلنا اور کوشش کرنا تو انسان کے اختیار میں ہے لیکن کامیابی کو پالینا اس کے اختیار میں نہیں۔فلاح اینٹ اور چونے کی بنی ہوئی چیز نہیں کہ کوئی مسجد میں جائے اور اسے اُٹھا لائے۔فلاح غیر مرئی چیز ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بینائی سے نظر آتی ہے۔اور جب وہ غیر مرئی چیز ہے اور خدا تعالیٰ کی دی ہوئی بینائی سے نظر آتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ ہی مدد کرے تو وہ حاصل ہو سکتی ہے ورنہ نہیں۔اس لیے جب مون حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کہتا ہے تو سننے والا لا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہتا ہے یعنی خدا تعالیٰ کی مدد سے ہی میں فلاح کو حاصل کر سکتا ہوں اور نہ نہیں۔ہم دیکھتے ہیں لوگ مسجدوں میں جاتے ہیں اور خالی ہاتھ آ جاتے ہیں۔اُن کے ہاتھوں میں فلاح نہیں ہوتی ، اُن کے کپڑوں میں فلاح نہیں ہوتی لیکن خدا تعالیٰ کہتا ہے فلاح وہاں ہے آؤ اور اسے لے لو۔تو معلوم ہوا کہ یہ غیر مرئی چیز ہے اور یہ خدا تعالیٰ ہی دیتا ہے اور اس کی دی ہوئی بینائی سے ہی نظر آتی ہے۔اور جب یہ غیر مرئی چیز ہے اور یہ خدا تعالیٰ ہی دیتا ہے تو جب مؤذن حَيَّ عَلَـى الفلاحِ کہتا ہے تو سننے والا لا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہتا ہے کہ میں ضرور آؤں گا، کوشش کروں گا اور اپنا سارا زور لگاؤں گا۔لیکن فلاح عطا کرنا خدا تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اگر وہ مدد کرے تو میں اس کے حصول میں کامیاب ہو سکتا ہوں ورنہ نہیں۔پس ان دونوں كلمات حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کی بجاۓ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللہ پڑھنا زیادہ مناسب ہے۔یہ کلمات اپنے اندر بہت بڑی حقیقت رکھتے ہیں اور ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح ہمیں چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ہو سکتا تھا کہ کوئی شخص اذان کے کلمات کود ہرا تا اور وہ سوچتا بھی نہ کہ ان کے اندر کتنی بڑی حقیقت پوشیدہ ہے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت کو توجہ دلا دی کہ یہ حصہ پہلے حصہ سے الگ ہے۔یہاں انسانی کام ختم ہوتا ہے اور خدائی کام شروع ہوتا ہے۔اس لیے تم اس کام کے لیے خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کرو۔افسوس کہ بوجہ بیماری میں اس مضمون کو ختم نہیں کر سکا۔اگر خدا تعالیٰ نے توفیق دی تو إِنْشَاءَ اللہ اگلے جمعہ میں میں اسے بیان کروں گا۔آج میں صرف یہی بتانا چاہتا ہوں کہ اذان کے