خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 200

$1951 200 خطبات محمود کہتا ہے اے لوگو! کان کھول کر سن لو کہ فلاں شخص بیوقوف ہے اور وہ یہ بات اپنے دل میں کہہ رہا ہے تو دوسرے لوگوں کو اس کا پتا کیسے لگے گا۔پس الله اكبر الله اکبر کا دل میں دہرانا سمجھ میں آسکتا ہے، اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کا دہرانا سمجھ میں آ سکتا ہے کیونکہ ان کلمات کا تعلق انسانی ذات سے ہے عَلَى الصَّلوٰۃ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ کا دہرانا سمجھ میں نہیں آ سکتا۔کیونکہ کہنے والا کہتا ہے کہ اے لوگو! تم سُرعت، توجہ اور تعہد کے ساتھ نماز کی طرف آؤ۔اس کلمہ کا تعلق اپنی ذات سے نہیں بلکہ دوسرے افراد سے ہے اور جب وہ دوسرے افراد کو کہتا ہے تم سرعت ، توجہ اور تعہد کے ساتھ نماز کی طرف آؤ اور یہ بات آہستہ کہتا ہے تو دوسرے افراد کو پتا کیسے لگے گا کہ وہ کیا کہ رہا ہے۔لیکن مؤذن جب یہ کلمات کہتا ہے تو بلند آواز سے کہتا ہے ، لوگ اُس کی آواز کو سنتے ہیں اور ان میں سے اکثر مسجد میں آجاتے ہیں۔یہاں دوڑنے سے مُراد جسمانی دوڑنا نہیں بلکہ اس سے مُراد روحانی دوڑ میں شامل ہونا ہے۔اسی طرح مؤذن کہتا ہے حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ اے لوگو! تم سرعت ، توجہ اور تعہد کے ساتھ کامیابی کی طرف آؤ۔اور جس شخص کے کان میں یہ آواز پڑتی ہے وہ کہتا ہے ٹھیک بات ہے اور اکثر دفعہ وہ مسجد کی طرف چلا جاتا ہے۔لیکن اگر تم ان کلمات کو آہستہ آہستہ کہتے ہوتو تمہاری آواز کو کون سنتا ہے؟ کون اس پر عمل کرتا ہے؟ کس کی توجہ پھیرنے کا یہ کلمات موجب ہوتے ہیں؟ پس اس میں کوئی معقولیت نظر نہیں آتی کہ ان کلمات کو دہرایا جائے۔لیکن لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ کہنے میں معقولیت پائی جاتی ہے کیونکہ مؤذن نے کہا تھا حَيَّ عَلَى الصَّلوةِ تم سرعت، توجہ اور تعہد سے نماز کی طرف آؤ اور حقیقی نماز یعنی کامل توجہ سے ذکر الہی کرنا اور دنیا کی اشیاء سے منہ موڑ لینا بہت بڑا کام ہے اسے ہر انسان نہیں کر سکتا۔اس لیے جب مؤذن کہتا ہے حَيَّ عَلَى الصَّلوة و مومن کہتا ہے لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ الا باللهِ کہ میں چلوں گا تو سہی ، میں مسجد میں آنے کی کوشش تو کروں گا اور توجہ اور تعہد سے نماز کی طرف آؤں گا لیکن نماز کی جو شرائط ہیں اُن کو پورا کرنا میری طاقت سے باہر ہے۔نماز میں توجہ کو قائم کرنا ، خدا تعالیٰ کی صفات کو سمجھنا، خدا تعالیٰ کی محبت کو کامل طور پر پیدا کر لینا اور یہ خیال کر لینا کہ خدا تعالیٰ مجھے نظر آتا ہے یہ بہت بڑا کام ہے۔اس میں خدا تعالیٰ ہی مدد کرے تو میں کرسکتا ہوں۔چنانچہ وہ کہتا ہے لَا حَولَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ یعنی یہ کام بہت بڑا ہے اور اس کا کرنا میری طاقت میں نہیں۔ہاں ! اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہو تو یہ کام ہو سکتا ہے۔اسی طرح جب مؤذن کہتا ہے ح