خطبات محمود (جلد 32) — Page 146
$1951 146 خطبات محمود کہ آپ کو اس نے نماز کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی نماز کا حکم دیا ہے۔پھر اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے روزوں کا حکم دیا ہے؟ آر نے فرمایا ہاں۔اس شخص نے کہا کیا آپ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ روزے فرض ہیں؟ آپ نے فرمایا میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ روزے فرض ہیں۔اُس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے زکوۃ کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا کیا آپ قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں کہ زکوۃ فرض ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں میں قسم کھا کر کہ سکتا ہوں کہ زکوۃ فرض ہے۔وہ شخص کھڑا ہو گیا اور اس نے کہا خدا کی قسم! میں ان چیزوں سے نہ کچھ زیادہ کروں گا اور نہ کم کروں گا۔یہ ملاں ٹائپ انسان تھا کیونکہ اُسے کم نہ کرنے سے جنت تو مل جائے گی لیکن زیادہ نہ کرنے سے اعلیٰ مقام نہیں مل سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی یہی فرمایا کہ اُس نے جو کچھ کہا ہے اگر اُس نے اس سے کم نہ کیا تو وہ جنتی ہو گیا۔5 حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کے متعلق آتا ہے کہ جب وہ حج کے لیے جاتے ایک جگہ پر قافلہ روک دیتے اور ایک درخت کے نیچے پیشاب کرنے کے لیے بیٹھ جاتے۔آپ نے کئی حج کیے اور ہمیشہ آپ اُس درخت کے نیچے پیشاب کرتے۔اتفاقا ایک شخص کئی دفعہ آپ کے ساتھ حج کے لیے گیا۔اُس نے دیکھا کہ آپ ہر دفعہ اُس جگہ قافلہ روک لیتے ہیں اور اُس درخت کے نیچے پیشاب کرتے ہیں تو اُس نے کہا یہ کیا بات ہے کہ آپ ہمیشہ قافلہ روک لیتے ہیں اور پیشاب کرنے کے لیے اُس درخت کے نیچے جاتے ہیں؟ پھر بعض دفعہ آپ پیشاب بھی نہیں کرتے ؟ تو حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہا میں اس بات کو ہمیشہ چھپاتا تھا اور ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا لیکن اب تم نے دریافت کیا ہے اس لیے ظاہر کر دیتا ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب آخری حج کیا تو آپ نے اس جگہ اُتر کر پیشاب کیا۔اس لیے میں کہتا ہوں کہ خواہ پیشاب آئے یا نہ آئے اس سنت کو بھی پورا کرلوں۔6 ایک ملاں کہے گا یہ کیا فضول حرکت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے تو اس بات کا حکم نہیں دیا۔لیکن ایک روحانی آدمی کہے گا تم اسے فضول کہہ لو لیکن چونکہ یہ کام میرے محبوب نے کیا تھا اس لیے میں بھی ضرور کروں گا۔بہر حال مومن مرغے کی طرح دانے چنتا ہے اور جہاں کہیں اُسے کوئی خوبی ملتی۔اسے لے لیتا ہے۔یہ چاردن برکت کے جمع ہو گئے ہیں اور یہ کئی دفعہ اکٹھے آئے ہوں گے لیکن ہر سال