خطبات محمود (جلد 32) — Page 145
$1951 145 خطبات محمود اس لیے اس سے روک دیا گیا ہے۔پھر فرمایا جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے تو لکھا۔کہ شروع میں حضرت عائشہ یا حضرت فاطمہ تھیں اس صدمہ کو برداشت نہیں کر سکیں اور انہوں نے اپنے منہ پر دو مت مارا لیکن پھر ہاتھ روک لیا۔4 کیا اس قسم کا مفتی یہ فتوی دے گا کہ حضرت عائشہ نے شرک کیا ؟ یہ ایک جذباتی فعل تھا۔یادر ہے کہ ایسے افعال بالذات شرک نہیں ہوتے۔ہاں! مشابہہ بہ شرک اور منتج بالشرک ہوتے ہیں اور شرک کا رستہ روکنے کے لیے ان سے منع کیا جاتا ہے۔اسی لیے کبھی مومن سے نادانستہ سرزد ہو جاتے ہیں کیونکہ خودان افعال کی ذات میں شرک نہیں پایا جاتا۔اس نے لیے مومن کی فطرت اس سے بلا واسطہ متنفر نہیں ہوتی۔ہم عام طور پر کہہ دیتے ہیں کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر جذبات کی وجہ سے کوئی ایسا کر دیتا ہے تو اُسے شرک نہیں کہا جا سکتا کیونکہ وہ افعال بالذات مشرکانہ نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جواب آنے پر یہ بات دب گئی لیکن قاضی امیر حسین صاحب کے دل میں یہ بات رہی۔وہ میرے استاد بھی تھے۔جب میں خلیفہ ہوا تو ایک دفعہ جب میں مسجد میں آیا تو وہ کھڑے ہو گئے۔میں چُپ رہا۔دوسری دفعہ پھر میں مسجد میں آیا تو وہ وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔میرے آنے پر وہ پھر کھڑے ہو گئے۔میں نے کہا قاضی صاحب! آپ کو یاد ہے کہ آپ نے خود ہی میرے ہاتھ چٹھی بھجوائی تھی کہ کسی کے آنے پر تعظیماً کھڑا ہونا شرک ہے اور اب آپ خود کھڑے ہو جاتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا ” کی کراں رہیا نہیں جاندا۔کیا کروں رہا نہیں جاتا۔میں نے کہا پھر اوہ لوگ بھی کی کر دے؟ اونہاں کولوں بھی رہیا نہیں سی جاندا۔پس یہ ایک جذباتی چیز ہے۔بعض لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن دوسرے مُلاں بن کر لفظ شریعت کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔وہ اس نگاہ سے نہیں دیکھتے کہ ان سے فائدہ اٹھایا جائے۔ایک ملاں بھی اس حد تک اپنے آپ کو شرک سے روکنے والا ہوتا ہے لیکن وہ اپنے آپ کو ثواب سے محروم کر لیتا ہے۔وہ مرغا کی طرح دانے چگنے کا عادی ہوتا ہے لیکن ایک روحانی آدمی ہمیشہ اس تلاش میں رہتا ہے کہ اُسے کوئی موقع ملے اور وہ اس سے فائدہ حاصل کرے لیکن ایک مُلاں کہتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے نماز، روزہ اور زکوۃ کا جو حکم دیا ہے انہیں بجالا نا ہی کافی ہے۔ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا پ نے نماز کا حکم دیا ہے؟ آپ نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا کیا آپ خدا کی قسم کھا کر کہہ سکتے ہیں