خطبات محمود (جلد 32) — Page 123
$1951 123 خطبات محمود اور نہ اُن کی زبانیں کائی جاسکتی ہیں۔وہ جب آئیں گے وہ دیکھیں گے بھی ، وہ سنیں گے بھی اور وہ اپنے اپنے گاؤں میں واپس جا کر باتیں بھی کریں گے۔پس ربوہ پر ویسی ہی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جیسی ذمہ داریاں پہلے قادیان پر تھیں اور اب بھی ہیں۔بلکہ اب ربوہ کا جماعت پر زیادہ وسیع اثر ہے کیونکہ عارضی طور پر خلافت ربوہ میں آگئی ہے۔جب خدا تعالیٰ چاہے گا اور وہ کامیابی اور کامرانی کے ساتھ مسلمانوں کو واپس اُن کے گھروں میں لے جائے گا تو پھر قادیان مرکز بن جائے گا۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس کے یہ معنے نہیں ہوں گے کہ ربوہ مرکز نہیں رہے گا۔ربوہ کیا، ہمیں سینکڑوں اور مراکز کی ضرورت ہے کیونکہ ہر ملک اور ہر علاقہ میں ایک مرکز کا ہونا ضروری ہے۔اور اس وقت مختلف ممالک میں بعض جگہیں مراکز کی حیثیت رکھتی ہیں۔مثلا گولڈ کوسٹ ( مغربی افریقہ) کے لوگ جب سالٹ پانڈ جاتے ہیں تو کہتے ہیں ہم مرکز میں گئے تھے۔ان کے لیے سالٹ پانڈ ہی مرکز ہے کیونکہ انچارج مبلغ وہاں رہتا ہے اور وہیں سے انہیں ہدایات ملتی ہیں۔پھر نائیجیریا میں لیگوس کی جماعت بیرونی جماعتوں پر اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ وہاں مرکزی مبلغ رہتا ہے اور وہیں سے تمام جماعتوں کو احکام جاری ہوتے ہیں۔اب امریکہ میں واشنگٹن کو مرکز کی حیثیت حاصل ہے اور ضروری ہے کہ اُس کا اثر دوسری جماعتوں پر پڑے۔انڈونیشیا میں جکارتا جماعت کا مرکز ہے۔حکومت کا مرکز بھی وہی ہے۔پس لازمی ہے کہ وہاں کی جماعت کی کوتاہیوں یا خوبیوں کا اثر تمام دوسری جماعتوں پر پڑے۔لیکن ربوہ کو ان مراکز سے زیادہ حیثیت حاصل ہے۔خلافت یہاں ہے اور اُس وقت تک خلافت یہیں رہے گی جب تک کہ ہندوستان میں امن قائم نہیں ہو جا تا ہمیں وہاں تبلیغ کی پوری آزادی نہیں مل جاتی اور ہم دوسرے مسلمانوں کے ساتھ مل کر وہاں امن کی زندگی بسر نہیں کر سکتے۔نادان احراری ہم پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہمیں قادیان واپس جانے کی خواہش ہے۔ان کے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ مکہ مسلمانوں کا مرکز ہے جو اس وقت اہلِ حدیث کے ماتحت ہے۔کیا سنیوں کو وہاں جانے کی خواہش نہیں؟ لیکن ذلّت کے ساتھ زندگی گزارنا اور عزت کے ساتھ کہیں رہنا دونوں برابر نہیں ہو سکتے۔ہم ذلت کے ساتھ واپس جانا نہیں چاہتے۔ہم اُس وقت واپس جانے کی خواہش رکھتے ہیں جب ہمارے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی وہاں مکمل آزادی حاصل ہو گی۔