خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 122

$1951 122 خطبات محمود جو عیسائیوں سے کیا جاتا ہے۔حالانکہ مجوسیوں کے متعلق قرآن کریم میں تفصیلی ذکر نہیں آتا۔قرآن کریم ان کا اشاروں میں ذکر کرتا ہے۔پس جو چیز بھی انسانی جسم کے مشابہ ہوگی اور جہاں بھی یہ معلوم ہوگا کہ ایک چیز دوسری چیز کے تابع ہے اور وہ ایک دوسری پر اثر انداز ہوتی ہے وہاں یہ ماننا پڑے گا کہ ان دونوں چیزوں کو آپس میں جسم اور قلب کی حیثیت حاصل ہے۔وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّه جب ان کا مرکزی نقطہ خراب ہو جائے گا تو وہ ساری چیزیں خراب ہو جائیں گی جو اُن کے تابع ہوں گی۔وَ إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّہ اور جب ان کا مرکزی نقطہ صحیح ہو جائے گا تو وہ ساری چیزیں صحیح ہو جائیں گی جو اُن کے تابع ہوں گی۔بالکل اسی طرح جس طرح دل کے خراب ہونے سے سارا جسم انسانی خراب ہو جاتا ہے اور اس کے صحیح ہونے سے سارا جسم انسانی صحیح ہو جاتا ہے۔مثلاً اسلام کا ایک نقطۂ مرکزی خدا تعالیٰ ہے۔پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مرکزی نقطہ ہیں۔پھر قرآن کریم ایک مرکزی نقطہ ہے۔پھر اس زمانہ کی ضرورتوں کے لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک نقطہ مرکزی ہیں۔پھر خلافت نقطہ مرکزی ہے۔پھر ان کے ساتھ مرکز بھی ایک نقطہ مرکزی ہے۔ایک زمانہ میں قادیان مرکز تھا اب عارضی طور پر ربوہ مرکز ہے۔پھر علاقوں علاقوں کی مرکزی جماعتیں نقطہ مرکزی کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ بیرونی جماعتوں کو متاثر کیے بغیر نہیں رہ سکتیں۔بہر حال مرکز میں کوئی خرابی پیدا ہوگی تو بیرونی جماعتیں بھی اس سے متاثر ہوں گی۔مثلاً اگر مرکز میں نمازوں میں سستی یا پچستی پیدا ہو جائے تو باہر سے جب کوئی مہمان آئے گا تو وہ یہاں سے کچھ باتیں اخذ کرے گا اور اپنے گاؤں جا کر کہے گا کہ میں نے ربوہ میں دیکھا ہے کہ لوگ نمازوں کے بہت پابند ہیں آپ کیا کر رہے ہیں؟ اس طرح بہت حد تک اس جماعت کے لوگ نمازوں کے پابند ہو جائیں گے۔لیکن اگر وہ مہمان مرکز سے بُرا اثر لے کر گیا ہے تو جب کوئی مہمان اٹھ کر لوگوں کو نماز کی پابندی کرنے کی تلقین کرے گا تو وہ شخص کہے گا میں ربوہ میں گیا تھا وہاں بھی لوگ نماز کے پابند نہیں۔اس طرح جماعت میں سستی پھیل جائے گی۔پس إِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ وَإِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُله مرکز وہ جگہ نہیں ہوسکتی جہاں باہر سے لوگ نہ آئیں۔اور جب لوگ باہر سے آئیں گے تو نہ اُن کی آنکھیں بند کی جاسکتی ہیں، نہ اُن کے کانوں میں روئی ٹھونسی جاسکتی۔