خطبات محمود (جلد 32)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 291

خطبات محمود (جلد 32) — Page 106

$1951 106 خطبات محمود اسے بیماری نہیں سمجھتا۔اگر وہ اسے بیماری سمجھتا تو اس کے لیے کوئی نہ کوئی کوشش بھی کرتا۔اور پھر وہ مرتا یا اچھا ہوتا ادھر ہوتا یا اُدھر ہوتا بہر حال کسی ایک نتیجہ پر وہ پہنچ جاتا۔مگر ایک طرف اس کا نام بیماری رکھنا اور دوسری طرف اس کے علاج کے لیے تعہد نہ کرنا محض بہانہ سازی ہوتی ہے۔اس میں کوئی محبہ نہیں کہ ان ایام میں بعض دن ایسے بھی آئے ہیں جبکہ روزہ دار تو الگ رہے بے روزہ بھی یوں معلوم ہوتا تھا کہ دم توڑ رہے ہیں۔اور جو بیمار تھے یا بوڑھے اور کمزور تھے انہیں بہت ہی تکلیف ہوئی۔مگر حقیقت یہ ہے کہ یہی دن انسان کے لیے زیادہ ثواب اور برکت کا موجب ہوتے ہیں اور انہیں دنوں میں انسان کی ہمت کا پتا لگتا ہے۔ایسے لوگ بھی میں نے دیکھے ہیں جن پر میں رشک کرتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ اُن کے برابر روزے میں نہیں رکھ سکتا۔مثلاً مولوی سید سرور شاہ صاحب ہیں 75 سال کی عمر کے تھے مگر باوجود منع کرنے کے وہ برابر روزے رکھتے تھے۔چاہے یہ حد سے زیادہ تقشر 1 کہلائے مگر اس سے پتا لگتا ہے کہ اگر انسان ارادہ کرلے تو بعض جگہ وہ شریعت کی اجازت سے بھی آگے نکل جاتا ہے۔بہر حال یہ دن اب اس رمضان کے آخری ایام ہیں اور نو جوانوں کے لیے ان کی عمر کے لحاظ سے مجاہدے کے دن ہیں۔اگلی دفعہ جب یہ روزے گرمیوں میں آئیں گے تو اُس وقت تک وہ بوڑھے ہو چکے ہوں گے۔اور اُس وقت وہ یہ عذر کریں گے کہ اب روزہ کی کوفت برداشت نہیں ہو سکتی اور خدا تعالیٰ نے بھی اُس عمر میں ان کو روزہ نہ رکھنے کی اجازت دی ہوئی ہوگی۔در حقیقت انسان کی عمر میں ایک دور ہی ایسا آ سکتا ہے جس میں وہ صیح طور پر روزے رکھ سکتا ہے۔چھتیس سال میں روزوں کا ایک چکر پورا ہوتا ہے اور دوسری دفعہ وہی دن آنے تک انسان ساٹھ سال سے اوپر ہو چکا ہوتا ہے۔کوئی ستر سال کا ہو جاتا ہے، کوئی بہتر سال کا ہو جاتا ہے اور کوئی پچھتر سال کا ہو جاتا ہے۔چونکہ سال کے مختلف مہینوں سے عمر شروع ہوتی ہے۔کوئی مارچ میں پیدا ہوتا ہے، کوئی اپریل میں پیدا ہوتا ہے، کوئی مئی میں پیدا ہوتا ہے، کوئی جون میں پیدا ہوتا ہے اس لیے کسی کے دوسرے روزے گرمی کے موسم میں اُس وقت آئیں گے جب وہ ساٹھ سال کا ہو چکا ہو گا۔کسی کے ستر سال کی عمر میں آئیں گے، کسی کے بہتر سال کی عمر میں آئیں گے۔گویا وہ ایسا زمانہ آجاتا ہے جس میں تھوڑی سی کوفت اور تھوڑی سی بیماری وی انسان کو معذور بنا دیتی ہے۔پس در حقیقت اگر کسی نوجوان کی زندگی میں یہ دن آئیں