خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 83

$1950 83 خطبات محمود ایسے لوگ ملیں گے جن سے پوچھیں کہ تمہارا عقیدہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ دیں گے لَا اِلهَ إِلَّا اللهُ۔لیکن وہ قبروں پر سجدے بھی کرتے ہیں حالانکہ لَا اِلهَ إِلَّا الله اور قبروں پر سجدے کرنا دونوں متضاد چیزیں ہیں اور یہ دونوں آپس میں مل نہیں سکتیں۔اسی طرح جب کسی عیسائی سے اس کے عقیدہ کے متعلق سوال کیا جائے تو وہ کہہ دے گا مسیح خدا کا بیٹا ہے۔لیکن جب تفصیل پوچھو تو وہ ایک خدا کی کیفیت بیان کرے گا۔بظاہر یہ دونوں متضاد چیزیں ہیں لیکن سب قوموں میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔مشرک مسلمانوں میں عقیدہ تو حید کا ہے اور اس کی تفصیل شرک ہے اور عیسائیوں میں عقیدہ شرک کا ہے اور اس کی تفصیل تو حید ہے۔ایک عام مسلمان اور عیسائی میں عام عقیدہ کے لحاظ سے اور خدا تعالیٰ کی ذات کے علم میں کوئی فرق نہیں لیکن اعمال میں بڑا بھاری فرق ہو جائے گا۔اعمال کے لحاظ سے ایک بچے اور مخلص مسلمان میں اور ایک م عیسائی میں بڑا نمایاں فرق نظر آئے گا۔عیسائی باوجود اس کے کہ اُس کا عقیدہ توحید کا نہیں وہ نیچری کی عم مسلمان کی طرح خدا تعالیٰ کو تخت پر بٹھا دے گا اور کہے گا کہ اگر میں سجدہ کروں گا تو اُسے ہی کروں گا لیکن جب عمل کا وقت آئے گا تو کہہ دے گا کہ ضروری نہیں میں اپنے آپ کو اعمال میں بھی مقید کر لوں۔میں سوچوں گا اور سمجھوں گا اور سوچنے اور سمجھنے کے بعد جو چیز مجھے اچھی لگے گی وہی کروں گا۔یہی ایک عام مسلمان کی حالت ہے۔وہ بھی عام حالات میں یہی کچھ کرتا ہے۔وہ نماز نہیں پڑھے گا لیکن پڑھے گا تو قبلہ رخ ہو کر۔اور جب عملی زندگی کا سوال آئے گا تو نماز اور عقیدہ ایک طرف رہ جائیں گے وہ کہہ دے گا کہ میں پاگل نہیں ہوں کہ میں اپنے ضمیر کو چل دوں۔میں سوچوں اور سمجھوں گا اور سوچنے اور سمجھنے کے بعد جو چیز مجھے اچھی لگے گی وہی کروں گا۔میں اس چیز کے لئے تیار نہیں ہوں کہ اپنی تکیل دوسرے کے ہاتھ میں دے دوں۔لیکن اعلیٰ اور خالص درجہ کا متقی ایسا نہیں کرتا۔چونکہ وہ خدا تعالیٰ کو دیکھ لیتا ہے اس لئے اُس کے لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اپنے نفس کو وہم میں مبتلا کرے۔وہم میں اپنے نفس کو وہ شخص مبتلا کرتا ہے جو خدا تعالیٰ کو دیکھتا نہیں۔ایک شخص جو رات کے اندھیرے میں باہر جاتا ہے اور اُس کے پاس روشنی نہیں ہوتی وہ اس وہم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ کہیں رستہ میں کوئی چوریا ڈاکونہ ہو۔لیکن جب بجلی چمکتی ہے اور اس کی آنکھیں چور یا ڈا کوکو دیکھ لیتی ہیں تو پھر اسے وہم ہونے کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔یعنی ایک صورت میں ہم اسے وہم میں مبتلا سمجھیں گے اور دوسری صورت میں بزدل اور کم ہمت تصور کریں گے۔اس طرح جس شخص نے خدا تعالی کو دیکھ لیا اس کے متعلق یہ سوال ہی