خطبات محمود (جلد 31) — Page 50
$1950 50 خطبات محمود فقرہ کہہ دے گا کہ حضور دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اولا د عطا کرے۔گویا پانچ منٹ وہ بالکل لغو باتوں میں ضائع کر دیتا ہے جس کا دعا سے تعلق نہیں ہوتا۔صرف یہ کہہ دینا کافی ہوتا ہے کہ میرے ہاں اولاد نہیں ہوتی آپ دعا کریں۔یا کسی کے ہاں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوتی ہیں تو یہ کہنا کافی ہے کہ میری نرینہ اولاد نہیں آپ دعا کریں۔یا اولا د ہوتی ہے مرجاتی ہے آپ دعا کریں۔مگر میں نے دیکھا ہے جب کسی کو ایسی لغو اور فضول باتوں سے روکا جاتا ہے تو وہ کہ دیتا ہے ٹھہرئیے میں وہیں آ رہا ہوں۔مگر سوال یہ ہے کہ تم مجھے کیوں اپنے ساتھ لے جارہے ہو۔صحابہ ایسا نہیں کرتے تھے۔وہ نہایت مختصر طور پر اپنی ضرورت بیان کر دیا کرتے تھے۔ایک صحابی بات کر لیتے تو دوسرے آگے آجاتے۔دوسرے بات ختم کر لیتے تو تیسرے آگے آجاتے۔میں نے بار ہا سمجھایا ہے کہ دعا کا موقع جمعہ کا ہے اور تم اس وقت رقعے دیتے ہو اور تم دیکھتے ہو کہ میں وہ رقعے جیب میں ڈال لیتا ہوں۔دعا کا وقت تو گزر گیا پھر دعا کب ہوگی۔لیکن اگر تم زبانی کہو تو نماز میں دعا کی جاسکتی ہے۔یہ تو ایسی ہی مثال ہے کہ کوئی شخص قصاب کے پاس گوشت لینے جائے اور ادھر ادھر پھر کر گھر واپس آ جائے اور دہلیز سے آگے گزرنے لگے تو کہے مجھے آدھ سیر گوشت تول دو۔دعا م کا جو وقت تھا وہ تم نے گزار دیا تم نے رقعہ دیا اور میں نے جیب میں ڈال لیا۔آخر میں ایسا بے وقوف تو نہیں کہ رقعے پڑھنے کے لئے نماز چھوڑ دوں۔جس نے دعا کے لئے زبانی کہا اُن کے لئے خواہ اجمالی رنگ میں دعا کر لی جائے یا الگ کر لی جائے اُسے دعا پہنچ گئی۔پھر کہنے والا دوسری دعاؤں میں شامل ہو جاتا ہے۔مثلاً نماز میں اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 3 کہا جاتا ہے تو وہ اس میں شریک ہو جاتا ہے۔صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِم 4 کہا جاتا ہے تو وہ اس میں شریک ہو جاتا ہے۔اور جب غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّانِينَ 5 کہا جاتا ہے تو وہ اس میں شریک ہو جاتا ہے مگر رقعہ والا دیکھتا ہے کہ اُس کا رقعہ میں جیب میں ڈال رہا ہوں اور اُسے واپس گھر جا کر ہی ہے پڑھوں گا اور اتنے میں دعا کا وقت گزر جائے گا مگر وہ اس فعل سے باز نہیں آتا۔یہ غیر عقلی طریق ہے۔میں نے بار ہا سمجھایا ہے کہ جماعت کو عقل سے کام کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔بہت سے کام ایسے ہوتے ہیں جو ہم کر سکتے ہیں لیکن کرتے نہیں۔جب نئی پود آتی ہے تو وہ اُن کو بُھول جاتی ہے ہے۔میں نے بارہا سمجھایا ہے کہ بڑوں کو چاہیے کہ وہ چھوٹوں کو سمجھائیں۔مثلاً ا۔ب۔ج تینوں ایک