خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 36 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 36

$1950 36 خطبات محمود مقابل میں دشمن کی حرکتیں تیز ہو سکتی ہیں تھوڑی سی دیر میں ہی ختم کر دے گا۔چنانچہ واقعات پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت دشمن بھی یہی خیال کرتا تھا کہ ہم تھوڑے سے عرصہ میں ان کو ماریں گے اور صحابہ بھی یہی سمجھتے تھے کہ ظاہری حالات میں یہ تھوڑی سی دیر میں ہم پر غالب آجائیں گے۔کیونکہ حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لشکر بندی ہوگئی تو صحابہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے لشکر کی صفوں سے پیچھے ایک مچان 1 بنایا اور یہ خواہش کی کہ آپ اُس جگہ پر بیٹھیں اور پھر دو تیز چلنے والی اونٹیاں جو سارے لشکر میں سب سے زیادہ تیز چلنے والی تھیں اُس مچان کے ساتھ لا کر باندھ دیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان اونٹنیوں کو باندھتے ہوئے دیکھا تو آپ نے فرمایا یہ اونٹنیاں کیوں باندھی گئی ہیں ؟ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم تھوڑے ہیں دشمن زیادہ ہے، وہ با سامان ہے اور ہم بے سامان ہیں۔کوئی بعید نہیں کہ تھوڑے سے وقت میں دشمن ہم پر غالب آجائے اور ہم مارے جائیں۔یہ اونٹنیاں اس لئے باندھتے ہیں کہ آپ اور ابوبکر دونوں ان پر سوار ہوکر مدینہ پہنچ جائیں وہاں اور مسلمان بھی ہیں جو اس خیال سے اس جگہ پر نہیں آئے تھے کہ شاید لڑائی نہیں ہوگی ورنہ وہ ایمان میں ہم سے کم نہیں ہیں۔آپ کے وہاں سلامت پہنچ جانے کی وجہ سے اسلام قائم رہے گا۔اور اگر آپ کو گزند پہنچا تو پھر اسلام کے قائم رہنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔اس لئے یہ اونٹنیاں ہم نے یہاں کھڑی کر دی ہیں اور ابو بکر کو بھی ہم یہاں بٹھا چلے ہیں تا کہ اگر ہم مارے جائیں تو آپ ان اونٹنیوں پر سوار ہوکر مدینہ پہنچ سکیں۔2 یہ بات دلالت کرتی ہے کہ جہاں دشمن یہ سمجھتا تھا کہ ہم نے ان کو مارلیا وہاں صحابہ بھی یہ سمجھتے تھے کہ شاید آج ہم مارے گئے۔یہ بے شک فرق ہے کہ انہوں نے موسی کے ساتھیوں کی طرح ایسے موقع کی پر گھبرا کر یہ نہیں کہا کہ فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قُعِدُونَ - 3 بلکہ انہوں نے یہی کہا کہ اے خدا کے رسول ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے 4 اور دشمن جب تک ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتا۔انہوں نے یہ نہیں کہا کہ ہم پکڑے گئے بلکہ انہوں نے کہا کہ جو کچھ ہمیں خدا نے طاقت م دی ہے اُسے ہم استعمال کریں گے اور اس جنگ کو ہم عذاب نہیں سمجھتے بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام سمجھتے ہیں۔لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُس وقت یہی ہی