خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 23 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 23

$1950 23 خطبات محمود اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ مرض کتنا وقت لے گی۔بظاہر تو یہی بات نظر آتی ہے کہ یہ بیماری لمبا وقت لے گی۔کیونکہ ذرا بھی میں بولوں تو بلغم بار بار گلے میں پھنستا ہے اور گلے میں سے بلغم کو نکالنا پڑتا ہے۔بعض دفعہ بلغم نہیں نکلتا تو خراش رہتی ہے اور بار بار کھانسنا پڑتا ہے۔بہر حال جہاں تک میرے گلے میں طاقت ہے اور میں خطبہ پڑھ سکتا ہوں میں نے یہی ارادہ کیا کہ خود خطبہ پڑھوں گو وہ مختصر ہی کیوں نہ ہو۔اور در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں تو مختصر خطبہ ہی پڑھا جاتا تھا۔حدیثوں میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ بعض دفعہ نماز سے آدھا ہوتا تھا۔یعنی اگر نماز پڑھنے میں دس منٹ صرف ہوتے تھے تو خطبہ پانچ منٹ میں ختم ہو جاتا تھا۔کیونکہ اُس زمانہ میں لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو سمجھ لیتے تھے لیکن اس زمانہ میں جب تک مغز ماری نہ کی جائے لوگ بات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔جو باتیں آجکل لمبی لمبی تقریروں سے حاصل کی جاتی ہیں وہ کسی زمانہ میں محض ایک دومثالوں سے حاصل کر لی جاتی تھیں یا اپنے بزرگوں کے بتائے ہوئے ایک دو فقرے سن کر ہی لوگ نصیحت حاصل کر لیتے تھے کیونکہ اُس زمانہ میں لوگ حقیقت پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے مگر آجکل جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی جاتی ہے اور جذبات ابھارنے کے لئے لمبے وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔پہلے ایک مقرر تمہید باندھتا ہے اور اس میں ایسی باتیں بیان کرنی شروع کرتا ہے جو لوگوں کے مسلمات میں سے ہوتی ہیں اور جن کو وہ مدت سے صحیح تسلیم کرتے چلے آ رہے ہوتے ہیں۔پھر اُن مسلمات پر وہ اس بات کی بنیا درکھ کر اسے پیش کرتا ہے تا کہ وہ ان مسلمات کے ساتھ ان کے دماغ میں گھس جائے۔اور جب وہ کسی بات کو ایسی شکل میں پیش کر دیتا ہے کہ سننے والے اسے مان سکیں تو پھر وہ اس بات کی طرف ان کے دماغوں کو پھراتا ہے کہ اس کے بغیر ان کا گزارہ ہی نہیں۔اور یہ کہ اگر انہوں عجم نے وہ بات نہ مانی تو ان پر تباہی آجائے گی۔اس طرح وہ ان کے جذبات کو ابھار دیتا ہے اور ایک لمبی تقریر کے بعد وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا ہے۔لیکن چونکہ جذبات کا ابھار نا عقل کو کمزور کر دیتا ہے اس لئے بسا اوقات یہ طریق ایسے لوگ بھی اختیار کر لیتے ہیں جو سچائی کی خدمت کرنا نہیں چاہتے بلکہ جھوٹ کو پھیلانا چاہتے ہیں۔جس طرح ایک ننگی دوائی جس پر کوئی اور چیز چڑھی ہوئی نہ ہو اُس کے متعلق ہر کھانے والا یہ معلوم کر سکتا ہے کہ وہ کڑوی ہے یا کھٹی ہے یا میٹھی ہے یا بد بودار ہے یا خوشبو دار ہے۔لیکن اگر اس پر کھانڈ چڑھی ہوئی ہو تو کھٹی بھی میٹھی معلوم ہو گی اور کڑوی بھی میٹھی معلوم ہوگی اور