خطبات محمود (جلد 31) — Page 266
$1950 266 خطبات محمود ہوگی۔مضبوط عمارتیں بنانے کے لئے ضروری ہے کہ بنیادیں چوڑی رکھی جائیں۔سو مربع فٹ میں عمارت کھڑی کرنی ہو تو سوا سو مربع فٹ میں بنیا د رکھنی چاہئے۔مثلاً اہرام مصر ہزاروں سال سے کھڑے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ مثلث کی شکل میں بنائے گئے ہیں۔ان کی چوٹی صرف چند مربع گز کی ہے لیکن بنیاد ہزاروں مربع گز میں ہے۔یعنی اس شکل میں یہ عمارتیں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی سینکڑوں سال قبل کی بنی ہوئی ہیں۔لیکن کسی نے ان کی مرمت تک نہیں کی۔اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مثلث کی شکل میں بنائی گئی ہیں۔نیچے بنیاد میں پچاس کی پچاس ایکڑ زمین میں ہیں اور اوپر چوٹی صرف چند مربع گز کی ہے۔بوجھ توازن کے ساتھ قائم رہتا ہے اور عمارتیں گرتی نہیں۔ہٹلر کہتا ہے کہ جرمنی اور ملکوں سے بڑا ہے، اس کی آبادی آٹھ کروڑ کی ہے۔انگلینڈ کی آبادی چار کروڑ ہے۔سپین کی آبادی چار کروڑ کی ہے۔فرانس کی آبادی چار کروڑ کی ہے۔اٹلی کی کی آبادی چار کروڑ کی ہے۔اگر یہ ممالک پھیلنا شروع کریں تو چار کروڑ سے اوپر نکل کر ان کی طاقت کمزور ہو جائے گی اور باہر کی آبادیاں ان سے طاقتور ہونا شروع کر دیں گی۔لیکن جرمنی کی بنیاد بڑی ہے اور اس کا خیال تھا کہ اس بنیاد کو بڑا کرنے کے لئے روس کے بھی چند حصے لے لئے جائیں تا کہ دوسرے ممالک کو جب فتح کیا جائے تو وہ اس کے حصے بن سکیں اس پر غالب نہ آسکیں۔اور یہ بات بالکل صحیح تھی۔برطانیہ کو دیکھ لوجوں جوں آسٹریلیا اور دوسری نو آبادیوں کی آبادی بڑھ رہی ہے وہ ان کی کے اثر سے باہر نکل رہی ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں کہ ہم کسی کے زیر حکومت رہنا نہیں چاہتے ہم اپنے ملک پر خود حکومت کریں گے۔لیکن جب تک ان کی طاقت تھوڑی تھی وہ سب برطانیہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا دم بھرتی تھیں۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہندوستان کی آبادی برطانیہ کی آبادی سے کم نہیں تھی زیادہ تھی۔یہ بات درست ہے۔لیکن ہندوستانی انگریزوں کے بھائی نہیں تھے غلام تھے۔ڈنڈے کے زور سے ایک شخص بھی سو افراد پر حکومت کر سکتا ہے۔چنانچہ دیکھ لو قیدی ہزاروں ہوتے ہیں لیکن اُن پر پہرہ چند سپاہیوں کا نا ہے۔لیکن برادری میں ایسا نہیں ہو سکتا۔جہاں برادری ہوگی وہاں اکثریت غالب آئے گی۔یہ گر مسلمانوں نے نہیں پہچانا۔قرآن کریم نے یہ گر بتا دیا تھا۔قرآن کریم میں صاف طور پر موجود ہے کہ