خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 244

$1950 244 خطبات محمود ہونا چاہیے تھا کہ یہ تحریک انیس سال سے زیادہ کیوں نہیں؟ جب کہ بیعت کرتے وقت ہم نے یہ وعد کیا تھا کہ ہم مرتے دم تک قربانی کرتے رہیں گے۔پس سترھویں سال کی تحریک کا اعلان کر کے میں کہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں یہی مثل مشہور ہے کہ جتنا گڑ ڈالو گے اُتنا ہی شربت میٹھا ہو گا۔تم جتنی قربانی کرو گے اتنی ہی جلدی اسلام پھیلے گا۔تم اپنی زبان سے کئی بار کہتے ہو کہ ہمیں قادیان کب ملے گا ، سوال یہ ہے کہ قادیان کو کیا فضیلت حاصل ہے؟ کیا قادیان کے لوگ پاخانہ کی بجائے مُشک پھرتے ہیں؟ یا وہاں کے مکانوں کی اینٹیں مٹی کی بجائے ہیرے اور جواہرات کی بنی ہوئی ہیں؟ قادیان کو اگر کوئی فضیلت حاصل ہے تو وہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اُسے اس زمانہ میں اسلام کی اشاعت کا مرکز بنایا ہے۔اگر تمہارے اندر اسلام کی اشاعت کا جوش نہیں، اگر تم قربانی کرنے کے لئے تیار نہیں تو قادیان تمہاری نظروں میں مزبلہ 6 اور روڑی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔اگر تمہیں قادیان کے ساتھ واقعی انس اور محبت ہے تو تمہیں قربانیاں دینی پڑیں گی اور قربانی کے بعد قربانی دینی پڑے گی۔اگر کوئی قربانی سے گریز کرتا ہے تو چاہے وہ منہ سے نہ کہے وہ اپنے عمل سے یہ کہتا ہے کہ فَاذْهَبْ أَنتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَآ إِنَّا هُهُنَا قَعِدُونَ : جاوَال محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ہم لڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں تم اور تمہارا رب دونوں لڑو ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔دنیا کے ہر ملک میں، دنیا کے ہر گوشے میں، دنیا کے ہر پردہ پر اور دنیا کی ہر حکومت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیم قابل تحقیر سمجھی جاتی ہے۔تم نے اسے نئے طور پر قائم کرنا ہے۔تم ایک معمولی مکان پر باوجود معمولی حیثیت ہونے کے ہزاروں روپے لگا دیتے ہو لیکن یہاں تم نے ساری دنیا کی عمارت کو گرا کر اسے نئے سرے سے تعمیر کرنا ہے۔پہلے تمہیں اس عمارت کو شمالی کرہ ارض سے لے کر جنوبی کرہ ارض تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک منہدم کرنا ہوگا اور انہدام پر بھی بڑا خرچ ہوگا اور پھر اسے دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا اور تعمیر پر بھی بڑا خرچ ہو گا۔تم یہ کس طرح امید کر سکتے ہو کہ تم اپنی انتہائی قربانی کے ساتھ اُنہیں سال میں اس عمارت کی بنیاد بھی رکھ سکو گے۔میں تو سمجھتا ہوں ابھی پاکستان اور بھارت میں بھی تبلیغ کی بہت ضرورت ہے۔اور صدر انجمن احمد یہ اس میں کوتاہی سے کام لے رہی ہے اور وہ نئے مبلغ نہیں رکھ رہی۔پچھلے دس سالوں میں اس نے ایک نیا مبلغ بھی نہیں رکھا۔ایک دفعہ جب میں نے پوچھا تو پاکستان کے مبلغ انہوں نے بڑے زور کے ساتھ آٹھ دس تک بتائے۔آٹھ کروڑ کی