خطبات محمود (جلد 31) — Page 222
$1950 222 خطبات محمود یہ معنے ہیں کہ ہر احمدی دوسرے غیر احمدی سے سو گنے زیادہ قربانی کر رہا ہے۔یہ کس قدر شاندار قربانی ہے۔مگر یہ شاندار قربانی اسی صورت میں نظر آسکتی ہے کہ اگر تم اپنی تعداد صحیح بتاؤ۔جتنی تعداد تم مبالغہ سے زیادہ کرو گے اُتنی ہی تمہاری قربانی چھوٹی ہوتی چلی جائے گی۔پس اس میں ہمارا فائدہ ہے کہ ہم اپنی تعداد کو کم بتا ئیں۔جب ہم کہتے ہیں کہ ہم سارے ہندوستان میں تین چار لاکھ ہیں تو ہم دوسرے لفظوں میں یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ ہم دوسروں سے بہت زیادہ قربانی کرنے والے ہیں۔لیکن جب ہم کہتے ہیں کہ ہم ہمیں تمہیں لاکھ ہیں تو ایک طرف ہم غلط بیانی کرتے ہیں اور دوسری طرف ہم یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہماری قربانیاں کوئی ایسی شاندار نہیں ہیں۔سوچو تو سہی۔تھوڑے ہونا اور اعلیٰ مقام پر ہونا اچھا ہے یا یہ اچھا ہے کہ ہم زیادہ ہوں اور قربانی میں کمزور؟ یہ صاف بات ہے کہ یہی مقام اچھا ہے ہم تھوڑے ہوں اور زیادہ قربانیاں کرنے والے ہوں۔بلکہ حق یہ ہے کہ اگر جھوٹ اور بے ایمانی کا سوال نہ ہو تو ایسے لوگوں کو یہ کہنا چاہیے کہ ہماری تعداد ایک لاکھ ہے اور ہم چندہ پندرہ لاکھ دیتے ہیں۔یہ قول زیادہ شاندار ہوگا۔مگر چونکہ یہ بھی جھوٹ ہوگا اس لئے کی نا جائز ہو گا۔غرض ہر بات جو کہو اُ سے حسابی طور پر پر کھ کر کہو۔پھر تمہارا عمل بھی ترقی کرے گا اور تمہارے کاموں میں برکت ہوگی اور غلطیاں کرنے سے تم بچ جاؤ گے۔“ خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: ایک بات اس سلسلہ میں یہ بھی کہہ دینا چاہتا ہوں کہ بعض کارکنوں نے کہا ہے آپ بعض دفعہ نظار توں کو ڈانٹتے ہیں تو باہر کی جماعتیں ان کا تمسخر اڑاتی ہیں۔اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ تم ٹھیک کام کرو۔اگر تم ٹھیک کام کرو گے تو میں کیوں تمہاری غلطیاں بیان کروں گا۔دوسرا جواب یہ ہے کہ میں صرف تمہاری اصلاح کے لئے تمہیں ڈانٹتا ہوں۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مجھے خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور تمہیں میں نے افسر مقرر کیا ہے اور جو خدا تعالیٰ کے بنائے ہوئے خلیفہ کے مقرر کردہ افسروں پر اس بناء پر کہ بعض دفعہ اُن کی کوتاہیوں پر خلیفہ انہیں ڈانٹتا ہے تمسخر اڑاتا ہے تو خواہ وہ امیر ہے یا کوئی اور عہد یدار وہ منافق ہے اور تم مومن ہو۔اس لئے تمہیں منافقوں کی باتوں سے گھبرانا نہیں کی چاہیے۔لیکن اصل بات یہی ہے کہ تم بھی اپنی اصلاح کرو تا تمہاری اصلاح سے دوسروں کی بھی اصلاح الفضل مورخہ 11 مارچ 1951ء)