خطبات محمود (جلد 31) — Page 218
$1950 218 خطبات محمود واجب الادا ہے۔اور جو تاریخوں کا غلام ہوتا ہے تاریخ گزرنے پر وہ سمجھتا ہے کہ اس کے ذمہ جو فرض تھا وہ ادا ہو گیا۔یہی حال میں نے جلسہ سالانہ کا دیکھا ہے۔جو لوگ جلسہ سالانہ تک چندہ دے دیتے ہیں دے دیتے ہیں اور جو نہیں دیتے وہ سمجھتے ہیں کہ چھٹی ہوگئی۔پس چندہ جلسہ سالانہ دس فیصدی کے حساب سے جلسہ سالانہ سے قبل ادا کرنا چاہیے ورنہ ایمان کی کمزوری اس طرف لے جائے گی کہ چلو تاریخ مقررہ تو گزرگئی اب چندہ کیسا۔میں صدر انجمن احمدیہ کو بھی کہتا ہوں کہ وہ مجھے تفصیلی جواب دے کہ وہ کونسے امکانی ذرائع ہیں جن سے اس تھوڑے سے وقت میں سارا انتظام ہو جائے گا۔اگر ہم تمیں ہزار مہمانوں کا اندازہ رکھیں تو اس کے معنے ہیں کہ ہمیں تین لاکھ ساٹھ ہزار فٹ کو ر ڈائریا ( Covered Area) چاہیے۔پھر کھانے کی پکانے کی جگہ چاہئے۔اتنا کورڈائریا ( Covered Area) وہ کہاں سے مہیا کریں گے؟ لیکن میں یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ وہ خیموں کی تجاویز پیش نہ کریں کیونکہ اول تو خیموں کی تجویز ایک جاہل ہی پیش کر سکتا ہے اتنے خیمے ملیں گے کہاں سے؟ 12x12 کے خیمے میں 13 آدمی آتے ہیں۔دس بیس ہزار آدمی کے لئے اڑھائی ہزار خیمہ چاہیے۔پس صدرانجمن احمد یہ بے سوچے سمجھے یہ نہ کہہ دے کہ وہ خیمے عم منگوالیں گے کیونکہ اس کے معنے ہیں کہ وہ اڑھائی ہزار خیمے منگوالیں گے۔اتنے خیمے تو گورنمنٹ بھی کی مہیا نہیں کر سکتی سوائے اس کے کہ وہ فوج کے تمام خیمے جمع کرلے۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض دفعہ انسان بغیر سوچے سمجھے کسی بات کا مشورہ دے دیتا ہے۔پچھلی دفعہ پانچ ہزار مہمانوں کی رہائش کے لئے خیموں کا انتظام کرنے کے لئے کہا گیا تھا سیکرٹری صاحب تعمیر نے اس کا وعدہ کیا مگر وقت پر صرف ی اڑھائی ہزار کے لئے تو خیمے لگا دیئے اور اڑھائی ہزار کے لئے شامیانے لگا دیئے ان شامیانوں میں کوئی مہمان نہ ٹھہرا اور نہ کوئی ٹھہر سکتا تھا۔میں نے سمجھا کہ اب انہیں کچھ کہنا بے فائدہ ہے کیونکہ ڈیڑھ ہزار روپیہ کرایہ ادا کر دیا گیا ہے۔مسجد میں جو شامیانہ لگا ہے یہ چھوٹا ہے۔وہ شامیانہ اس سے چار گنا زیادہ تھا۔اس کے معنے تو یہ ہیں کہ مہمان باہر لیٹ جائیں۔مگر وہ خوش تھے کہ قانونی طور پر انہوں نے میرا منہ ہم بند کر دیا ہے اور میں خاموش تھا اس لئے کہ حیا اور عقل نے میرا منہ بند کر دیا تھا۔اور میں سمجھتا تھا کہ اب شامیانے تو آگئے ہیں اور ان کا کرایہ بہر حال ہمیں دینا ہو گا اس لئے اب انہیں کچھ کہنا لا حاصل ہے۔