خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 217

$1950 217 خطبات محمود اسی طرح میں باہر کی جماعتوں کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ اگر اس طرح زور لگا کر کام کیا گیا تو خرچ زیادہ ہو گا وہ اپنا چندہ بڑھائیں۔اگر جماعت اپنی ماہوار آمد کا دس فیصدی چندہ بھی دے تو ڈیڑھ لاکھ روپیہ چندہ جلسہ سالانہ بنتا ہے لیکن آمد صرف پچاس ہزار ہوتی ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جلسہ سالانہ کے کم سے کم چندہ میں سے بھی جماعت تیسرا حصہ چندہ دیتی ہے۔یہ چیز بہت خطرناک ہے۔جو کام کرنا ہے وہ آخر ہم نے ہی کرنا ہے اس لئے بیرونی جماعتوں کو بھی اس طرف توجہ کرنی چاہیے۔وہ اپنے فرض کو مدنظر رکھتے ہوئے چندہ مقررہ شرح سے ادا کریں اور اسے جلد سے جلد ادا کریں کیونکہ اگر روپیہ وقت پر نہ آیا تو یہ کام نہیں ہو سکے گا۔میرا یہ تجربہ ہے کہ جو شخص جلسہ سالانہ تک چندہ نہیں دیتا وہ پھر کبھی نہیں دیتا۔وہ یہ نہیں دیکھتا کہ اس کی ذمہ داری کیا ہے بلکہ وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس کی ذمہ داری کونسی تاریخ تک میں نے تحریک جدید کے متعلق بھی دیکھا ہے کہ ادھر 30 نومبر ہوئی اور لوگوں نے کہ دیا الحَمدُ لله اب تو سال گزر گیا اب ہمیں چندہ نہیں دینا پڑے گا۔پھر ایک تحریک ہو جاتی ہے اور وہ بقایا اُسی طرح چلا جاتا ہے۔تحریک جدید دفتر دوم کا اندازہ لگایا جائے تو ہر سال چالیس ہزار روپیہ کے قریب ایسی رقم نکلے گی جو واجب الادا ہوگی۔اگر کسی نے وعدہ کیا ہے تو اسے سمجھنا چاہیے کہ اگر میں نے وعدہ وقت پر ادا نہ کیا تو مجھے اللہ تعالیٰ کے حضور شرمندہ ہونا پڑے گا لیکن اگر یہ خیال نہ ہو تو وعدہ کی ادائیگی مشکل ہے۔دولاکھ روپیہ سے زیادہ رقم اب تک بقایا چلی آرہی ہے اور کسی نے اسے چھواتک نہیں۔ایک سال تک غلطی ہوئی اور وہ گزر گیا، دوسرے سال غلطی ہوئی اور وہ گزر گیا، تیسرے سال غلطی ہوئی اور گزر گیا۔اسی طرح چھ سال ہو گئے لیکن کسی کو خیال پیدا نہیں ہوا کہ اس نے ابھی پہلے سال کا بقایا ادا نہیں کیا ، اس ہم نے ابھی دوسرے سال کا بقایا ادا نہیں کیا، اُس نے ابھی تیسرے سال کا بقایا ادا نہیں کیا ، اس نے ابھی چوتھے سال کا بقایا ادا نہیں کیا، اس نے ابھی پانچویں سال کا بقایا ادا نہیں کیا۔انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ 30 نومبر کی تاریخ گزرگئی اب چندہ کیا دینا ہے۔گویا ان کا تعلق خدا تعالیٰ سے نہیں 30 نومبر سے ہے۔اگر خدا تعالیٰ سے انہوں نے وعدہ کیا ہوتا تو وہ کہتے آخر ایک دن ہم نے خدا تعالیٰ کے سامنے جانا ہے وہاں ہم کیا جواب دیں گے۔کیا ہم یہ جواب دیں گے کہ ہم نے تجھ سے ایک وعدہ کیا تھا جو پورا نہ کیا ؟ زندہ خدا سے جو تعلق رکھتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ خواہ وعدہ پورا کرنے کی تاریخ گزر جائے وہ بہر حال