خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 149

$1950 149 خطبات محمود ہے اور اس کی یاد اپنے دل میں تازہ نہیں رکھتا وہ یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ مجھے اپنے محبوب سے محبت ہے۔سچی محبت ہمیشہ اپنے ساتھ بعض ظاہری علامات بھی رکھتی ہے اور محبت کی ایک بڑی علامت یہ ہے کہ انسان اٹھتے بیٹھتے اپنے محبوب کا ذکر کرتا ہے اور اس کی یاد اپنے دل میں تازہ رکھتا ہے۔جب کوئی شخص اپنے کسی عزیز کو یاد کر لیتا ہے تو اُس کی محبت دل میں تازہ ہو جاتی ہے اور اُس کی صورت آنکھوں کے سامنے آ جاتی ہے۔اس لئے کہتے ہیں الْمَكْتُوبُ نِصْفُ الْمُلَاقَاتِ یعنی جب انسان اپنے کسی دوست یا رشتہ دار کو خط لکھتا ہے تو گویا وہ اس سے نصف ملاقات کر لیتا ہے جب وہ السَّلَامُ عَلَيْكُمُ لکھتا ہے اور پھر اپنے حالات بتاتا ہے اور اس کے حالات دریافت کرتا ہے تو ایک رنگ میں وہ ایک دوسرے کے سامنے ہو جاتے ہیں اور ان کی محبت تازہ ہو جاتی ہے۔گویا جس طرح ملاقات سے آپس کے تعلقات بڑھتے ہیں اسی طرح خط لکھنے سے بھی آپس کے تعلقات بڑھتے ہیں اور خط لکھنا ملاقات کا قائم مقام ہو جاتا ہے۔نماز بھی خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ایک ذریعہ ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب تم نماز پڑھو تو اس طرح پڑھو گانگ تَرَاهُ گویا تم خدا تعالیٰ کو پھر ھ رہے ہو۔فَاِنْ لَّمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاکَ۔لیکن اگر تم کو اتنی روحانیت حاصل نہیں کہ تم یہ سمجھو کہ ہم خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہیں تو کم از کم تم میں اتنا احساس تو ضرور ہونا چاہیے کہ تم یہ سمجھ رہے ہو کہ خدا تعالیٰ ہمیں دیکھ رہا ہے۔4 غرض نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا وجود انسان کے سامنے آجاتا ہے، اس کی محبت تازہ ہو جاتی ہے اور اُس کا قرب انسان کو حاصل ہوتا ہے۔اور چونکہ نماز خدا تعالیٰ کی ملاقات کا ایک ذریعہ ہے اس لئے کی اسلام نے یہ ضروری قرار دیا ہے کہ انسان تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خدا تعالیٰ کا نام لے اور نماز کے لئے کھڑا ہو جائے۔خواہ جنگ ہو رہی ہو، دشمن گولیاں برسا رہا ہو ، پانی کی طرح خون بہہ رہا ہو، پھر بھی اسلام یہ فرض قرار دیتا ہے کہ جب نماز کا وقت آ جائے تو اگر ممکن ہو مومن اُسی وقت اللہ تعالیٰ کے حضور ٹھک جائے۔( نہایت خطرناک حملہ کی صورت میں وہ نمازیں جو جمع نہیں کی جاسکتیں اُن کو بھی جمع کرنے کا حکم ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چار نمازیں جمع کی ہیں 5) بیشک جنگ کی وجہ سے نماز کی ظاہری شکل بدل جائے گی لیکن یہ جائز نہیں ہو گا کہ نماز میں ناغہ کیا جائے۔مگر آجکل مسلمانوں میں جہاں اور بہت سی خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں وہاں ان میں ایک یہ نقص بھی پیدا ہو گیا ہے کہ