خطبات محمود (جلد 31) — Page 4
خطبات محمود $1950 دفتر والوں نے ان کا نام فہرست میں شامل نہیں کیا تھا۔میں نے کہا تھا کہ ایک نام رہ گیا ہے بعد میں یاد آگیا کہ وہ راجہ محمد نواز صاحب تھے۔اس کے بعد میں دوستوں کو تحریک جدید کے وعدوں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔میں نے اس دفعہ جب تحریک جدید دفتر اول کے سولہویں اور دفتر دوم کے چھٹے سال کی تحریک کی تو اُس وقت یہ بیان کرنا بھول گیا کہ وعدوں کی آخری میعاد کیا ہوگی۔پھر جلسہ سالانہ کے موقع پر اپنی تقریر کے نوٹوں میں میں نے نے یہ بات درج کی تھی کہ میعاد کا اعلان کروں گا۔لیکن جب تقریر کے لئے کھڑا ہوا اور دوسرے مضامین لمبے ہو گئے تو یہ بات ذہن سے اُتر گئی۔اس کے بعد ارادہ تھا کہ خطبہ جمعہ میں جو اس سال کا پہلا خطبہ ہو گا میں میعاد کا اعلان کروں گا۔لیکن بیماری کی وجہ سے پچھلے جمعہ میں خطبہ کے لئے آ نہ سکا اس لئے آج میں اس بارہ میں اعلان کرتا ہوں۔اور چونکہ اعلان کرنے میں اب دیر ہو گئی ہے اس لئے میں میعاد کو کچھ لمبا کر دیتا ہوں۔یعنی پہلے وعدوں کی آخری میعاد 7 فروری ہوتی تھی اور اس نے وقت تک مخلصین جماعت کوشش کر کے پورے وعدے لکھوا دیتے تھے۔لیکن اس دفعہ چونکہ میعاد کا اعلان نہیں کیا گیا اس لئے لوگ اس دُبدھا 1 میں رہے کہ پتہ نہیں تحریک جدید کے وعدوں کی آخری میعاد کیا ہو گی۔اس لئے بجائے 7 فروری کے میں 28 فروری آخری میعاد مقرر کرتا ہوں۔یعنی 28 فروری تک جو دوست اپنے وعدے لکھوا دیں گے اُن کے وعدوں کو قبول کر لیا جائے گا۔یا یکم مارچ تک جو وعدے ڈاک میں ڈال دیں گے اُن کے متعلق سمجھ لیا جائے گا کہ انہوں نے وقت کے اندراندر وعدہ لکھوا دیا ہے۔میں نے گزشتہ تحریک کے اعلان کے موقع پر خدام الاحمدیہ کو توجہ دلائی تھی کہ وہ خصوصیت کے ساتھ تحریک جدید دفتر دوم کی طرف توجہ کریں۔بعض جماعتوں کی طرف سے اطلاع آئی ہے کہ وہ اس کام کے لئے کوشش کریں گی اور یہ کہ وہ اپنا پورا زور لگائیں گی کہ سال ششم میں زیادہ سے زیادہ وعدے کئے جائیں اور کوئی نوجوان اس میں حصہ لینے سے پیچھے نہ رہے۔لیکن جو اعدادوشمار میرے سامنے پیش کئے گئے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سال کے وعدے گزشتہ سال کے وعدوں کے مقابلہ میں ساٹھ فیصدی ہوئے ہیں۔گویا بجائے بڑھنے کے پچھلے سال سے بھی وعدے چالیس فیصدی کم ہیں۔اسی طرح اس وقت تک جو وعدے دفتر اول کے آئے ہیں اُن میں بھی پچھلے سال کی نسبت پچاس ہزار