خطبات محمود (جلد 31)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 292

خطبات محمود (جلد 31) — Page 3

$1950 3 خطبات محمود میں اعلان کرے کہ فلاں کا جنازہ آیا ہے احباب نماز میں شامل ہوں۔اور میرے متعلق یہ غلط بیانی کی گئی کہ میں نے کہا ہے کہ میں بیمار ہوں اس لئے باہر نہیں آسکتا جنازہ پڑھا دیا جائے۔اور وہ حقیقت اس طرح کھلی کہ درد صاحب آئے اور اُنہوں نے بتایا کہ میں بھی لاہور سے ابھی پہنچا ہوں اور دوسرے رشتہ دار بھی بھاگ دوڑ کر یہاں پہنچے ہیں مگر جنازہ پڑھا دیا گیا ہے اور ہم جنازہ میں شامل نہیں ہو سکے۔آخر در دصاحب نے باہر نکل کر جھگڑا کیا کہ انہوں نے کیوں جنازہ میں اُنہیں شریک نہیں کیا۔اس پر اُن کی بیٹی آئی اور اُس نے بتایا کہ ہم نے جنازہ کے لئے کہا تھا مگر ہمیں یہ بتایا گیا کہ حضور نے جنازہ پڑھانے کی اجازت دے دی ہے کیونکہ آپ بیمار ہیں اور باہر نہیں آ سکتے۔بہر حال ایسے کارکنوں کے خلاف مناسب اقدام کیا جائے گا اور انہیں سرزنش کی جائے گی۔لیکن چونکہ میں جنازہ میں شریک نہیں ہو سکا اس لئے نماز جمعہ کے بعد میں ان کا جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔اسی طرح ڈاکٹر اقبال غنی صاحب کا بھی جنازہ پڑھاؤں گا۔مرحوم میرے بچپن کے دوست تھے۔بچپن میں تین بچے تھے جو میری عمر کے تھے اور جن سے میری گہری دوستی تھی۔ڈاکٹر صاحب ان میں سے ایک تھے۔وہ میری بڑی بیوی کی سوتیلی والدہ کے بھائی تھے۔یعنی ناصر احمد اور مبارک احمد وغیرہ کی جو سوتیلی نانی تھیں اُن کے وہ بھائی تھے۔بچپن میں ہم اکٹھے پڑھتے رہے ہیں اور اس کے بعد بھی اُن کی کے ساتھ میرے گہرے تعلقات رہے۔دوسرے دوست سید حبیب اللہ شاہ صاحب تھے جو بعد میں میرے سالے ہو گئے۔اور ان کی بہن اُمم طاہر سے میری شادی ہوگئی۔تیسرے دوست پروفیسر تیمور تھے جو بعد میں مرتد ہو گئے۔باقی کم و بیش دوستی تو دوسروں سے بھی تھی مگر جن کو یک جان و دو قالب کہتے ہیں وہ یہ تین ہی تھے۔ڈاکٹر اقبال غنی صاحب مرحوم کے متعلق بھی مجھے افسوس ہے کہ مجھے کسی نے اطلاع نہیں دی۔جس سے تعلقات ہوں انسان کا دل چاہتا ہے کہ اُس کے بارہ میں جلد سے جلد ہر قسم کی اطلاع مل جائے۔میاں بشیر احمد صاحب نے اطلاع دی ہے کہ میں نے آپ کو تار دی تھی مگر وہ تار مجھے نہیں ملی۔تیسرے دوست راجہ محمد نواز صاحب ہیں جن کا آج جمعہ کی نماز کے بعد میں جنازہ پڑھاؤں گا۔یہ راجہ علی محمد صاحب کے رشتہ دار تھے۔نوجوان طالب علم تھے کہ جب احمدی ہوئے۔ان کی مخالفت کی شدت سے ہوئی لیکن انہوں نے اعلیٰ درجہ کی استقامت دکھائی۔پچھلی دفعہ جب نماز جنازہ پڑھائی گئی تو