خطبات محمود (جلد 31) — Page 101
$1950 101 خطبات محمود اپنے گھر کا کوڑا کرکٹ باہر پھینکتے ہیں اور ہم نے لندن کے کئی لڑکے اور لڑکیاں آپس میں لڑتی دیکھی ہیں۔صرف اس بات پر کہ کوڑا کرکٹ میں پڑا ہوا ایک بچا کھچاروٹی کا ٹکڑا کوئی دوسرانہ لے جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان ملکوں کے پاس دولت ہے لیکن کئی ایسی وجوہات ہوتی ہیں جن کی بناء پر حکومت باوجود کوشش کے غربت کا کوئی علاج نہیں کر سکتی۔مثلاً اسلام نے بھی حکم دیا تھا کہ کوئی شخص بھوکا نہ رہے ہر ایک کو روٹی ملے۔لیکن اس کا طریق یہی تھا کہ ہر ایک شخص کو سال چھ ماہ کا غلہ مل جاتا تھا۔فرض کرو گورنمنٹ نے غلہ دے دیا اور اسے اطمینان ہو گیا کہ اب ملک میں کوئی بھوکا نہیں۔لیکن ایک شخص سخی ہے اُسے کوئی مسافر ملا تو اُس نے اُسے کہا چلو میرے گھر۔اس نے ایک ماہ کے خرچ میں سے پندرہ دن کا غلہ اُس مسافر کو کھلا دیا اور پندرہ دن کا خود کھا لیا۔اس کے نتیجہ میں مہینہ کے بقیہ پندرہ کی دن اسے فاقہ میں گزارنے پڑے۔یا مثلاً ایک شخص کے ہمسایوں کو علم ہے کہ اُس کے پاس رات کے لئے کچھ کھانے کا سامان ہے لیکن رات کو اس نے کھانا پکا کر کسی دوسرے کو کھلا دیا۔اس قسم کی کئی اور وجوہات بھی ہیں جن کی بناء پر باوجود کوشش کے گنی طور پر تکلیف کو ہٹایا نہیں جاسکتا۔پھر اگر یہ نہ بھی ہو تب بھی سب کھانے والے کھانا نہیں کھا سکتے۔مثلاً میری مثال لے لو میں بیمار ہوں۔بعض دفعہ تین تین چار چار دن تک ایسا ہوتا ہے کہ جب بھی کھانے لگتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی سزا ملنے والی ہے۔ایک قسم کا امتلاء اور اختلاج محسوس ہوتا ہے۔لیکن جب زہر نکل جاتا ہے تو بھوک اس شدت کی لگتی ہے کہ اگر دس منٹ بھی کھانا لیٹ ہو جائے تو جسم تھر تھر کانپنے لگ جاتا ہے۔بہر حال یہ کسی کے اپنے اختیار کی بات نہیں۔انسان کی اپنی غلطی نہ بھی ہو تب بھی خدا تعالیٰ نے بعض اسباب ایسے رکھے ہیں جن کے ہوتے ہوئے گلی طور پر تکلیف کو مٹایا نہیں جاسکتا۔یا مثلاً کپڑے ہیں کپڑے کسی ہی قسم کے ہوں جب خطر ناک قسم کی خارش پیدا ہو جاتی ہے تو جالی کا کپڑا بھی جسم پر نہیں رکھا جاسکتا۔ایسا مریض یہ چاہے گا کہ مکان کے کنڈے لگا لے اور اند رنگا بیٹھ جائے۔ان سب چیزوں کا کوئی حکومت کیا علاج کر سکتی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے يَأْلَمُوْنَ كَمَا تَأْ لَمُوْنَ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی شخص دنیا میں موجود ہو اور اُسے کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔ہاں تم منافقت کی وجہ سے اپنی تکلیفوں کو بڑھا کر دکھاتے ہو۔ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ ہر شخص پر کوئی نہ کوئی مصیبت آتی ہی رہتی ہے۔کوئی بڑی سے بڑی قوم نکال دو جس کے افراد کو کبھی کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو۔اپنے محلہ میں ہی چلے جاؤ۔