خطبات محمود (جلد 30) — Page 90
$ 1949 06 90 خطبات محمود مشورہ کرنا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں تجارت کو ترقی کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟ یا بعض لوگ زراعت سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ کہتے ہیں آئے اور ہمیں مشورہ دیجیے کہ پاکستان میں زراعت کو کس طرح اعلیٰ پیمانہ پر لے جایا جاسکتا ہے۔اور ہمیں یہ باتیں کرنی پڑتی ہیں لیکن ہمیں اپنے کچھ اوقات تو ذکر الہی کے لیے مخصوص کر لینے چاہیں اور اپنے سارے وقت دوسروں کو نہیں دے دینے چاہیں۔اس کے بعد میں احباب کو اس مضمون کی طرف توجہ دلاتا ہوں جس کی طرف میں نے جماعت کو لاہور میں توجہ دلائی تھی۔مگر اُس جلسہ میں لوگ بہت تھوڑے تھے۔یہی آٹھ نوسو کے قریب لوگ جمع تھے۔لیکن آج میں سمجھتا ہوں کہ چودہ پندرہ ہزار کے قریب مجمع ہو گیا ہو گا۔ابھی تک کھانے کی رپورٹ میرے پاس نہیں آئی۔لیکن قادیان میں جتنا بڑا جلسہ گاہ بنایا تھا اُس کا اگر اندازہ لگایا جائے تو اس جلسہ پر آنے والوں کی تعداد چودہ پندرہ ہزار کی ہے۔کچھ تو یہ دن ہی ایسے تھے کہ لوگ فصلوں کو چھوڑ کر نہیں آسکتے تھے کیونکہ یہ کٹائی کا وقت ہے اور فصلوں کو چھوڑ کر چلا آنا زمینداروں کے لیے ایک مشکل امر ہے اور کٹائی میں دیر لگانا بھی مشکل ہے۔کٹائی میں دیر لگ جائے تو غلہ گر جاتا ہے اور زمینداروں کے حصہ میں غلہ کی بہت کم مقدار آتی ہے۔ان مشکلات کی وجہ سے اس جلسہ پر زمیندار لوگ نہیں آسکے۔پھر اس جلسہ پر لوگوں کے کم آنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ملا زمت پیشہ لوگوں کی چھٹی بہت کم تھی۔پھر سارے لوگ مستعد بھی نہیں ہوتے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ اگر کچھ آرام ملے تو وہاں جائیں لیکن اس دفعہ چونکہ کھلے بندوں یہ کہہ دیا گیا تھا ت کہ نئے انتظامات اور نئی جگہ کے ہونے کی وجہ سے روٹی اور پانی کی تکلیف ہوگی اس لیے جلسہ پر جماعت کا ایسا حصہ بھی نہیں آسکا جنہیں اگر آرام ملے تو جلسہ پر آتے ہیں ورنہ وہ نہیں آتے۔قادیان میں یہ صورت تھی کہ تیرہ چودہ ہزار احمدی وہاں کے مقامی باشندے تھے اور آٹھ دس ہزار قادیان کے دس میل اردگرد کے علاقہ کے احمدی تھے اور جماعت کا یہ سارے کا سارا حصہ جلسہ کے موقع پر اکٹھا ہو جاتا تھا۔اس کے معنے یہ ہیں کہ قادیان میں جلسہ کے موقع پر بیس ہزار کے قریب وہاں کی لوکل آبادی ہو جاتی تھی اور باہر سے بھی تھیں ہزار کے قریب احمدی آجاتے تھے۔اب صورت یہ ہے کہ یہاں کی لوکل آبادی ہے ہی نہیں۔یہاں جو لوگ رہ رہے ہیں ان کی تعداد