خطبات محمود (جلد 30) — Page 80
خطبات محمود 80 80 * 1949 یل کی کیا ضرورت تھی۔اگر ہمیں علم غیب حاصل ہوتا اور ہم اپنے گھروں میں بیٹھے بیٹھے! عزیزوں، رشتہ داروں، دوستوں اور دوسرے شہروں اور علاقوں کی خبروں سے باخبر رہ سکتے تو پھر ہمیں ڈاک اور تار کی کیا ضرورت تھی۔مثلاً اگر ہمیں پتا لگ جاتا کہ امریکہ میں کیا ہو رہا ہے تو ہمیں ڈاکخانہ میں جا کر ٹکٹ خریدنے کی کیا ضرورت تھی تاہم خط لکھ کر اپنے عزیز کا حال دریافت کریں۔پس تم اگر غرور سے کہتے ہو ہم دولت مند ہیں ہم اپنی ضروریات زندگی بآسانی خرید سکتے ہیں تو اس کے یہ معنے ہیں کہ تم اقرار کرتے ہو کہ ہم ناقص ہیں، ہم کمزور ہیں۔تم جب کہتے ہو کہ ہمارے پاس اعلیٰ قسم کے لباس ہیں، ہمارے پاس سردی اور دھوپ سے بچنے کے لیے سامان موجود ہیں تو اس کا وسرے لفظوں میں یہ مطلب ہوتا ہے کہ تم کمزور اور ضعیف ہو ورنہ تمہیں اگر سردی کا خطرہ نہ ہوتا، بں دھوپ لگتی ہی نہ تو پھر تمہیں کپڑوں کی کیا ضرورت تھی، جب تمہیں پیاس لگتی ہی نہ تو پھر تمہیں پانی کی ضرورت ہی کیا تھی۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاء إِلَى اللهِ اے لوگو! جس دولت کو تم دولت کہتے ہو درحقیقت وہ دولت دولت نہیں۔ا یہاں فقراء سے وہ لوگ مراد نہیں جن کے پاس پیسے کم ہوں۔دنیا میں روپے اور پیسے کے لحاظ سے بہت بڑے بڑے امیر لوگ موجود ہیں۔یہاں پر اللہ تعالیٰ نے النَّاسُ کہا ہے کہ اے لوگو! اے انسانو! جن میں راتھ شیلڈ (ROTHSCHILD) بھی شامل ہے۔اور فورڈ اور راک فیلڈ اور دوسرے لوگ بھی شامل ہیں جو اپنے آپ کو امراء سمجھتے ہیں اس میں نظام بھی شامل ہے، بڑوڑہ 5 کا راجہ بھی شامل ہے، برلا اور دالمیا بھی شامل ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے لوگو ! تم غریب ہو۔اس لیے کہ وہ دولت جس کا نام تم نے دولت رکھا ہوا ہے وہ درحقیقت دولت نہیں ہے۔تم غریب ہو کیونکہ تم ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہو کہ ہم اس کے محتاج ہیں۔ہمارا اس کے بغیر گزارہ نہیں ہوسکتا اور اس کا مفہوم ہی یہ ہے کہ تم ناقص ہو تم کمزور ہو، تم دولت مند نہیں بلکہ فقیر ہو۔اصل دولت مند خدا تعالیٰ ہے جس کو کسی چیز کی ضرورت نہیں، کسی قسم کی احتیاج نہیں اور صرف یہی نہیں ہے کہ وہ محتاج نہیں بلکہ وہ تمہاری احتیاج کو دور کرتا اور تمہاری ضروریات کو پورا کرتا ہے۔اس نکتہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ہی انسان میں قربانی کی کمزوری پائی جاتی ہے۔قرآن کریم میں دوسری جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہودی مومنوں کو طعنہ دیتے ہیں کہ ان