خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 79

* 1949 79 خطبات محمود ہوتے ہیں کہ میرا جسم تحلیل ہوتا ہے، کمزور ہو جاتا ہے اس لیے اس میں کچھ اورلا کر ڈالوں۔انسان چاہتا ہے کہ میں پانی پیوں، شربت پیوں، لیمونیڈ (LEMONADE) پیوں، شراب پیوں یا کوئی اور بلا پیوں اس کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کے جسم میں تحلیل واقع ہوتی ہے اور کمزوری الی پیدا ہوتی ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ اس کمزوری اور نقص کو دور کرے۔انسان چاہتا ہے کہ وہ کپڑے پہنے تا وہ ننگا نہ رہے، سردی گرمی سے بچا رہے یا سردی اور تپش سے بچنے کے لیے نہ ہی اسے زینت کے لیے بھی لباس کی ضرورت ہوتی ہے تا وہ اس سے اپنے جسم کو خوبصورت بنائے۔وہ چاہتا ہے کہ گرتا پہنے، کوٹ پہنے، ہیٹ پہنے، ٹوپی یا پگڑی پہنے، جوتی یا بوٹ پہنے تا وہ اپنے نقص اور کمزوری کو دور کرے۔بہر حال جو کوئی بھی ان اشیاء کا محتاج ہے وہ ناقص ہے اور یہ سب اشیاء جس کے بھی کام آنے والی ہیں وہ کمزور ہے۔اس نکتہ کو اگر سمجھ لیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ دولت دراصل انسان کی احتیاج اور اس کے ضعف پر دلالت کرتی ہے۔پس میں جماعت کے احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ لوگ جو اپنے آپ کو دولت مند خیال کرتے ہیں انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہی دولت جس پر وہ غرور کرتے ہیں وہی انہیں اس طرف توجہ دلاتی ہے کہ وہ سخت محتاج ہیں اور انہیں ایسی چیز کی ضرورت ہے جو ان کی ضروریات زندگی کو پورا کرے اور ان کی یہ احتیاج ان کے شعف اور کمزوری پر دلالت کرتی ہے۔اگر انہیں احتیاج نہ ہوتی تو پھر اس کی ضرورت ہی کیا تھی؟ پھر کہتے ہیں ہم بھوکے ہیں، ہمارا جسم تحلیل ہو رہا ہے، ہمیں کھانے کی ضرورت ہے۔ہم پیاسے ہیں ہمیں پانی کی ضرورت ہے۔ہمیں جوتی کی ضرورت ہے تانی ہمارے پاؤں میں کانٹے نہ چھ جائیں یا ان پر میل نہ لگے اور وہ گرد آلودہ نہ ہوں۔ہمیں کپڑے کی ضرورت ہے تاہم اپنے آپ کو سردی اور تپش سے بچا سکیں یا ہم اپنے آپ کو مزین کر سکیں۔ہمیں مکانوں کی ضرورت ہے تاہم دھوپ اور سردی سے محفوظ رہیں بارشوں کی وجہ سے بھیگ نہ جائیں۔یہ ساری کی ساری چیزیں ایسی ہیں جن کی ہمیں ضرورت ہوتی ہے۔کسی دوسرے شہر یا علاقہ میں ہمیں کوئی ضرورت ہوتی ہے تو ہم فوراً گھوڑے پر یا موٹر اور ریل پر جیسی بھی صورت ہو سوار ہو کر اُس شہر یا علاقہ تک جاتے ہیں۔اگر ہمیں ان چیزوں کی ضرورت نہ ہوتی ، اگر ہماری تمام ضرورتیں ہے گھر بیٹھے خود بخود پوری ہو جاتیں تو پھر ہمیں گھوڑے کی کیا ضرورت تھی ، موٹر کی کیا ضرورت تھی ،