خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 76

$1949 76 خطبات محمود یا موٹی ، سرخ ہے یا سفید، زرد ہے یا کسی اور رنگ کی ہے۔ایک واقف انسان یا علم رکھنے والا انسان فوراً جان لیتا ہے کہ در حقیقت دماغ دیکھ رہا ہے آنکھ نہیں دیکھ رہی۔آنکھ کی مثال تو دور بین کی سی مالی ہے۔یہی حال کانوں کا ہے۔کان آواز نہیں سنتے بلکہ دماغ سنتا ہے۔ہماری زبان جب چکھتی ہے، ہمارے ہونٹ اوپر نیچے حرکت کرتے ہیں تو یہ حرکت وہ خود نہیں کر سکتے بلکہ اس حرکت کا دماغ سے کی تعلق ہے۔کان بھی خود آواز نہیں سنتے۔ہوا کان کے سوراخ کو چھوتی ہے اور آگے دماغ اس آواز ہے کو محسوس کرتا ہے مگر بظاہر نظر یہی آتا ہے کہ آنکھ دیکھتی ہے، کان سنتے ہیں، انگلیاں چُھوتی ہیں، زبان چکھتی ہے اور یہی نتیجہ ہم اس سے نکال لیتے ہیں لیکن در حقیقت نہ آنکھ دیکھتی ہے، نہ کان سنتے ہیں، نہ انگلیاں چھوتی ہیں اور نہ زبان چکھتی ہے بلکہ ان کے پیچھے دماغ ہے جو کام کر رہا ہے۔یہ سب اشیاء بطور آلہ کے ہیں۔یہی صورت انسان کی ہے۔انسان جب کوئی کام کرتا ہے تو نا واقف آدمی خیال کر لیتا ہے کہ یہ اس کی ذاتی خوبی ہے حالانکہ خدا تعالیٰ نے اپنی صفات کے ظہور کے لیے انسان کو واسطہ بنایا ہے اور ہم سمجھ لیتے ہیں کہ وہ کام انسان کر رہا ہے اور ان صفات کو انسان کے کی ساتھ وابستہ کر دیتے ہیں۔مثلاً دولت ہے دُنیا میں جس آدمی کے پاس دولت ہے وہ سمجھ لیتا ہے کہ وہ دولت مند ہو گیا ہے۔لوگ اس کے محتاج ہوتے ہیں اور اس سے مدد مانگتے ہیں حالانکہ دولت حقیقی نہیں بلکہ ایک نسبتی چیز ہے۔ہم اسے دولت تو قرار دے لیتے ہیں یا اسے دولت کا نام تو دے لیتے ہیں لیکن در حقیقت وہ دولت دولت نہیں۔ہزاروں لوگ ایسے ہیں جن کے لیے یہی دولت مصیبت اور دکھ کا موجب ہو جاتی ہے۔کہتے ہیں کوئی شخص بھوکا پیاسا جنگل میں جا رہا تھا۔کئی دنوں کا اسے فاقہ تھا۔اسے راستہ میں ایک تھیلی ملی۔وہ بہت خوش ہوا اور اس نے خیال کیا کہ شاید اس میں گھنے ہوئے دانے ہوں گے یا گندم کے کچے ہی دانے ہوں گے اور ان کے ساتھ وہ اپنی زندگی کو سلامت رکھ سکے گا۔اُس کی نے تھیلی اٹھالی اور اسے کھولا تو اس نے دیکھا کہ اس تھیلی میں قیمتی موتی ہیں۔اس نے نہایت تی حقارت سے اس تھیلی کو میرے پھینک دیا اور خود آگے چل دیا۔غرض وہی دولت جسے انسان اپنے لیے نہایت مفید چیز سمجھتا ہے وہی انسان کے لیے بعض دفعہ تکلیف اور دکھ کا موجب بن جاتی ہے اور وہ اسے صدمہ پہنچاتی ہے بجائے اس کے کہ وہ اس کی