خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 75

$1949 75 خطبات محمود اس نے چھینیں مار کر رونا شروع کر دیا اور کہنے لگی چا ابا اس ڈبے میں بند ہیں انہیں اس ڈبہ سے جلدی نکالو۔اس نے سمجھا کہ میں اس ڈبہ کے اندر بیٹھا ہوا بول رہا ہوں۔اس لیے اس نے ی بے تحاشا رونا شروع کر دیا۔گھر والے اسے بہتیری تسلی دلائیں مگر وہ یہی کہتی چلی جائے اس ڈبہ سے چا ابا کی آواز آرہی ہے، چا ابا اس ڈبہ میں بند ہیں انہیں نکالو۔غرض جب کوئی ناواقف آدمی لاؤڈ سپیکر کے کسی ڈبہ کو دیکھتا ہے اور اسے آواز آتی ہے تو وہ خیال کرتا ہے کہ کوئی شخص اس ڈبہ کے اندر بیٹھا ہے اور بول رہا ہے۔اسی طرح گراموفون ہے۔ایک شخص اسے دیکھ کر ناواقفیت کی وجہ سے سمجھ لیتا ہے کہ اس کے اندر کوئی آدمی بیٹھا ہے یا کوئی جن بیٹھا ہے جو بول رہا ہے۔غرض بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے ظاہری طور پر ان سے غلط نتیجہ نکل آتا ہے۔جب ایک انسان مادی اشیاء میں دھوکا کھا سکتا ہے تو روحانی اشیاء میں جو زیادہ اعلیٰ ہیں اسے کیوں دھوکا نہیں لگ سکتا۔جس طرح ایک چیونٹی جب کسی ہاتھ کو ہلتا ہوا دیکھتی ہے تو وہ بجھتی ہے کہ ہاتھ اپنی ذات میں ایک ہلنے والی چیز ہے۔اسی طرح ایک ناواقفی انسان جب کسی مزدور کو کام کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اپنے منشا سے کام کر رہا ہے۔حالانکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنی بہت سی صفات اسی طرح جاری کی ہیں کہ ان می کے ظاہر کرنے کے لیے اس نے انسان کو واسطہ بنایا ہے۔جس طرح انسانی دماغ نے ہاتھ کو ذریعہ بنایا اُسی طرح خدا تعالیٰ بھی اپنی صفات کو ظاہر کرنے کے لیے انسان کو ذریعہ بنا لیتا ہے۔یا مثلاً انسان آنکھوں سے دیکھتا ہے، کانوں سے سنتا ہے اور زبان سے چکھتا ہے ایک ناواقف یہ سمجھتا ہے کی کہ آنکھ دیکھتی ہے، کان سنتا ہے، زبان چکھتی ہے۔حالانکہ آنکھ کان زبان سب چیزیں دماغ کے تابع ہیں۔آنکھ نہیں دیکھتی بلکہ دماغ دیکھتا ہے۔کان نہیں سنتے بلکہ دماغ سنتا ہے۔انگلی چُھو کر کسی چیز کو محسوس کرتی ہے تو اس کے یہ معنے نہیں کہ انگلی خود یہ کام کرتی ہے بلکہ انگلی دماغ کو اطلاع دیتی ہے ہے۔جب وہ کسی چیز کو چھوتی ہے تو وہ دماغ کو اطلاع دیتی ہے کہ ہم چھوتے ہیں۔آگے دماغ کے اس کی کیفیت کا پتہ لگا کے یہ بتاتا ہے کہ آیا وہ سخت ہے یا نرم۔اگر وہ چیز گلد گدی 2 یا لچکدار ہے تو ی دماغ فیصلہ کر لیتا ہے کہ وہ نرم ہے۔یا مثلاً آنکھ دیکھتی ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ آنکھ خود دیکھتی ہے بلکہ وہ صرف دماغ کو اطلاع دیتی ہے آگے دماغ خود فیصلہ کرتا ہے کہ وہ چیز کیسی ہے چھوٹی ہے