خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 58 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 58

* 1949 58 خطبات محمود ہزاروں ہزار مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ لوگ سخت خطرہ کی حالت میں بھی اپنے گھروں کی ذمہ داریوں کو نہیں بھولتے۔تو ہیں چل رہی ہوتی ہیں، گولے برس رہے ہوتے ہیں ، عمارتوں کو آگ لگ رہی ہوتی ہے، شہر خالی ہو رہے ہوتے ہیں مگر عورتیں نکلتی ہیں تو پان کھانے کی شوقین عورتیں کہتی ہیں اپنے ساتھ پان کی دس گلوریاں تو رکھ لیں تا کہ رستہ میں کام آئیں۔اسی طرح شہر خالی ہو رہے ہوتے ہی ہیں تو عورتیں اپنے بچوں کے لیے روٹیاں لگانے یا پنجیری بنانے میں مشغول ہوتی ہیں حالانکہ وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ ممکن ہے پانچ دس منٹ کے بعد وہ سب قتل کر دیے جائیں۔جب دنیوی معاملات میں اپنی ذمہ داریوں کو بُھولا نہیں جاتا تو کیا وجہ ہے کہ ہم دین کے معاملات میں محض ای وہموں کی وجہ سے اپنی تیاری کو چھوڑ دیں۔جو ہونا ہے وہ بہر حال ہو کر رہنا ہے۔ہمارا فرض یہ ہے کہ اگر بُرا بھی ہونا ہے تو ہم اپنی آنکھیں بند کر کے اُس کام میں لگے رہیں جو خدا نے ہم پر ڈالا ہے۔اور آخر وقت تک اپنے فرائض کو ادا کرتے چلے جائیں۔کام کرتے جانا ہمارا کام ہے نتائج نکالنا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی ہمیں اُس کے وعدوں پر کامل یقین ہونا چاہیے اور اس کی یقین کو آخر وقت تک قائم رکھنا چاہیے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کا واقعہ ہے۔آپ کے پاس ایک شخص آیا اور اُس نے کہا يَا رَسُوْلَ اللہ ! میرے بھائی کے پیٹ میں تکلیف ہے۔اُسے دست آ رہے ہیں میں کیا کروں؟ آپ نے فرمایا جاؤ اور اُسے شہد پلاؤ۔وہ گیا اور اُس نے شہد پلایا مگر دست بجائے کم ہونے کے اور بھی زیادہ ہو گئے۔وہ دوبارہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! میرے بھائی کے دست تو شہد پلانے سے اور بھی بڑھ گئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اور شہد پلاؤ۔وہ پھر گیا اور اُس نے شہد پلایا مگر دست ی اور بھی بڑھ گئے۔اس پر وہ پھر واپس آیا اور اُس نے کہا يَا رَسُوْلَ اللہ ! میرے بھائی کے دست تو اور بھی بڑھ گئے ہیں۔آپ نے فرمایا جاؤ اور اور شہد پلاؤ۔وہ گیا اور پھر اُس نے شہد پلایا مگر اس کی دفعہ اُسے پہلے سے بھی زیادہ اسہال کی شکایت ہو گئی۔وہ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا يَا رَسُولَ الله ! شہد پلانے سے تو دست اور بھی بڑھ گئے ہیں۔آپ نے فرمایا تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے خدا کا کلام سچا ہے۔1 آپ کا مطلب یہ تھا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ۔