خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 52

$1949 52 52 خطبات محمود اس طرح پچاس شیڈ میں قریباً چھ ہزار آدمی کی گنجائش ہے۔ان میں سے بیس شیڈ مستورات کے لیے مخصوص کر دیئے گئے ہیں جن میں اڑھائی ہزار کے قریب مستورات کے رہنے کی گنجائش ہوگی۔لیکن چونکہ جلسہ سالانہ کے ایام آنے تک موسم گرم ہو جائے گا اور لوگ غالبا پسند کریں گے کہ وہ باہر نکل کر سوئیں اس لیے خیال ہے کہ یہ عمارت تھیں، چالیس بلکہ پچاس ہزار آدمی کے لیے کافی ہوگی کیونکہ صرف اسباب اندر رکھنا ہوگا سونے کے لیے لوگ باہر لیٹنا زیادہ پسند کریں گے۔احباب کی حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر الگ الگ جماعتوں کو رکھا جائے تب بھی ہمارا خیال ہے کہ یہ شیڈ بارہ، پندرہ بلکہ بیس ہزار آدمی کے لیے کافی ہوں گے۔چونکہ جماعت جب جلسہ پر آتی ہے تو بالعموم وہ اپنے چندے بھی ساتھ لاتی ہے اور بالعموم ان ایام میں اپنے گزشتہ حسابات بھی دیکھنا چاہتی ہے، اس کے علاوہ مختلف دفاتر سے لوگوں کو مختلف کام ہوتے ہیں۔بعض کو اپنے جھگڑوں اور تنازعات کے سلسلہ میں امور عامہ کے دفتر سے کام ہوتا ہے یا رشتہ ناطہ کے لیے وہ شعبہ رشتہ ناطہ سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں یا بیت المال والوں سے وہ اپنے بجٹ کے سلسلہ میں ملنا چاہتے ہیں یا دفتر محاسب میں وہ اپنی امانتیں رکھوانا یا اپنی امانتیں نکلوانا چاہتے ہیں اس لیے ان دفاتر کے لیے بھی وہاں مکانات کی بنانے ضروری تھے۔چنانچہ میں نے انجنیئروں سے مشورہ کرنے کے بعد اس غرض کے لیے عارضی طور پر بارہ کمرے بنانے کا حکم دے دیا ہے اور وہیں خزانہ بنانے کی ہدایت بھی دے دی ہے۔اس طرح جو مستقل افسر ہیں اور جن کو جلسہ سالانہ کے ایام میں رات دن کام کرنا پڑے گا اُن کے لیے بھی علیحدہ انتظام کی ضرورت تھی۔چنانچہ اس کے لیے بھی میں نے چھ مکانات الگ بنوانے کا فیصلہ کیا ہے اور متعلقہ کارکنان کو اس کے متعلق ہدایت دے دی ہے۔یہ تمام مکانات صرف عارضی طور پر بنائے جائیں گے۔ان پر قریباً اٹھارہ ہمیں ہزار روپیہ صرف ہو گا۔لیکن اس میں سے خرچ کا کچھ حصہ سلسلہ کو واپس مل جائے گا۔مثلاً جب یہ مکانات توڑے جائیں گے تو ان کی کچی اینٹیں کچھ تو تھی ضائع ہو جائیں گی لیکن انجنیئروں کا خیال ہے کہ دو تہائی اینٹیں آئندہ کی ضروریات کے لیے بیچ جائیں گی۔اس طرح ان مکانات میں جو لکڑی استعمال کی جائے گی وہ بھی بچ جائے گی۔ہمارا ای اندازہ یہ ہے کہ نصف کے قریب خرچ واپس مل جائے گا اور صرف دس ہزار روپیہ ایسا ہو گا جو جلسہ کی خاطر خرچ ہوگا۔میں نے یوں بھی اندازہ لگایا ہے کہ انجمن کے جو دفاتر ہیں وہ قادیان کی نسبت اب