خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 51 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 51

* 1949 51 555 7 خطبات محمود اس دفعہ جلسہ سالانہ پر غالباً اسی ہزار روپیہ خرچ آئے گا مگر اس وقت تک چندہ صرف اٹھائیس ہزار آیا ہے (فرمودہ 25 مارچ 1949ء بمقام لاہور ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: میں نے گزشتہ جمعہ میں ان اوہام کے متعلق جو لوگوں کے دلوں میں ربوہ میں جلسہ کرنے کے متعلق پیدا ہو رہے ہیں کچھ باتیں بیان کی تھیں۔آج میں پھر اسی مضمون کے متعلق ایک اور نقطہ نگاہ سے توجہ دلانا چاہتا ہوں۔جلسہ سالانہ کے متعلق جو وہاں انتظامات ہو رہے ہیں میں کل اُن کو دیکھنے کے لیے ربوہ گیا تھا۔چونکہ اُس جگہ پر کوئی رہائشی مکانات نہیں ہیں اس لیے ظاہر ہے کہ ہمیں وہاں رہائش کے لیے عارضی انتظامات ہی کرنے ہوں گے۔چنانچہ اس غرض کے لی لیے میں نے انجنیئروں سے مشورہ کرنے کے بعد ساڑھے تیرہ ہزار روپیہ کی منظوری عارضی شیڈ (SHED) بنانے کے لیے دے دی ہے اور اس میں پچاس شیڈ بنائے جا رہے ہیں۔ہر شیڈ چھیانوے فٹ لمبا اور سولہ فٹ چوڑا ہے۔درمیان میں ستون ہیں۔اس طرح ہر شیڈ دو حصوں میں سیم ہو جاتا ہے۔ہمارا اندازہ یہ ہے کہ ہر شیڈ میں ایک سو پچپیس یا ایک سو تھیں آدمی آ سکتے ہیں۔