خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 434

$ 1949 434 خطبات محمود بھوکے تھے اور بعض غنیمت اکٹھی کرنے میں مصروف ہو گئے۔ایک درہ پر کچھ صحابی کھڑے کیے گئے تھے جنہیں یہ حکم تھا کہ خواہ کچھ ہو وہ اُس جگہ سے نہ ہلیں۔ان سے بھی غلطی ہوئی۔دشمن کو بھا گتا دیکھ کر انہوں نے کہا چلو! تھوڑ اسا جہاد ہم بھی کر لیں اور وہ جہاد کے شوق سے اپنی جگہ چھوڑ کر میدانِ جنگ کی طرف بھاگے۔اُس وقت درہ کو خالی پا کر دشمن کے لشکر نے مسلمانوں پر پیچھے سے آکر حملہ کر دیا۔مشرکین تین ہزار کی تعداد میں تھے اور مسلمانوں کا لشکر پہلے ہی چھوٹا تھا اور پھر فتح کے بعد منتشر ہو گیا تھا۔بہت تھوڑی تعداد میں صحابی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد جمع تھے۔اچانک حملہ کی وجہ سے مسلمان اس کی تاب نہ لا سکے اور منتشر ہو گئے۔یہاں تک کہ ایک وقت میں صرف بارہ آدمی کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگر درہ گئے۔انہوں نے آپ کو بچانے کی کوشش کی لیکن تین ہزار کے مقابلہ میں چند آدمیوں کی مجال ہی کیا ہے۔ایک ایک آدمی پر جب سو سو حملہ آور ہو گئے تو وہ کہیں کے کہیں جا پڑے۔کچھ تو پیچھے دھکیل دیئے گئے اور کچھ زخمی ہو کر گر گئے۔آخر میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی زخمی ہو کر گرے اور جو آدمی آپ کی حفاظت کر رہے تھے وہ بھی ایک ایک کر کے زخمی ہو کر آپ پر گرتے چلے گئے اور آپ لاشوں کے ڈھیر میں دب گئے۔4 یہ حالت دیکھ کر کسی صحابی نے کی دوڑ کر خبر دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہوگئے ہیں۔5 مدینہ تک جو اُحد سے آٹھ میل کے فاصلہ پر تھا یہ بر پہنچی۔عورتیں اور بچے دیوانوں کی طرح اُحد کی طرف دوڑ پڑے۔مگر سپاہیوں کو جو فتح ہے کے بعد میدان سے ہٹ کر ستا رہے تھے اور جو تھوڑی بہت خوراک ساتھ تھی اُسے کھا رہے تھے جب یہ خبرپہنچی تو وہ بہت حیران ہوئے کہ ہم تو فاتح تھے ہماری فتح شکست سے کس طرح بدل گئی ؟ وہ لوگ جو ھکیلے گئے تھے اُن میں حضرت عمرؓ بھی شامل تھے۔آپ ایک پتھر پر بیٹھ گئے اور اپنی ہتھیلیوں پر سر رکھ کر رونے لگ گئے۔حضرت مالک فتح کے بعد میدان سے ہٹ کر پیچھے چلے گئے تھے۔آپ نے کھانا ہے کھایا ہوانہیں تھا۔غریب آدمی تھے چند کھجوریں جیب میں تھیں وہی کھا رہے تھے اور ٹہل رہے تھے۔ٹہلتے ٹہلتے آپ حضرت عمر کے پاس پہنچے اور آپ کو روتے دیکھ کر کہا عمر ! یہ رونا کیسا؟ کیا آپ اسلام کی فتح پر رو ر ہے ہو؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا مالک ! تمہیں معلوم نہیں بعد میں کیا ہوا؟ حضرت مالک نے کہا ہے مجھے تو کچھ پتا نہیں صرف اتنا پتا ہے کہ اسلام کو فتح ہوئی۔حضرت عمر نے فرمایا مالک! دشمن پھر کو ٹا اور بھی بھر مسلمانوں پر جو وہاں تھے حملہ آور ہوا۔وہ حملہ کی تاب نہ لا سکے۔کچھ مسلمانوں نے مقابلہ کی