خطبات محمود (جلد 30) — Page 406
$1949 406 خطبات محمود آئے ہیں اور ان کو ابھی ہم نئے ہی سمجھتے تھے کہ ہماری بہن رقیہ تھائی سن مارگرٹ ہالینڈ سے آگئی ہیں۔وہ بھی شاید جرمن ہیں مگر اب ہالینڈ کی باشندہ ہیں۔ابھی امریکہ سے ایک دوست کا خط آیا ہے۔انہوں نے زندگی وقف کی ہے۔وہ تعلیم کے لیے ربوہ آنا چاہتے ہیں۔پھر ایک اور جرمن دوست یہاں آنے کی کے لیے اصرار کر رہے ہیں۔انہوں نے لکھا ہے کہ اگر مجھے ویزا مل جائے تو میں فوراً آ جاؤں۔جب یہ لوگ آئیں گے اور تمہارے حالات دیکھیں گے تو ان کے لیے تمہاری یہ حالت ٹھوکر کا موجب ہوگی۔تین چار دن ہوئے مجھے مسٹر کنزے نے ایک خط لکھا کہ درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اور ہمارا پھل یہ ہے کہ ہر طرف پاخانہ ہی پاخانہ پڑا ہے۔گویا ان کو بھی تمہاری یہ حالت دیکھ کر شرم آئی۔وہ بھی احمدی ہیں اور بھائی ہونے کی وجہ سے تمہاری یہ حالت دیکھ کر انہیں شرم آئی ہوگی کہ انہوں نے مجھے لکھا۔لیکن ان سے زیادہ شرم ہمیں آنی چاہیے کیونکہ ہمیں ایک لمبا موقع سمجھانے کا ملا ہے اور انہیں وہ موقع نہیں ملا۔وہ کہتے ہیں کہ جب میں دوستوں سے کہتا ہوں کہ صفائی کرو تو بعض لوگ کہتے ہیں کہ اچھا اگر تمہیں صفائی کا اتنا خیال ہے تو تم خود صفائی کر دو۔یہ یقینا تمسخر ہے اور جب کوئی نیک بات بتائے تو اس سے تمسخر منع ہے۔وہ غیر ملک کے رہنے والے ہیں اور اس بات کو سمجھتے نہیں۔وہ سمجھتے ہے ہیں کہ کہنے والے نے یہ لفظ سنجیدگی سے کہے ہیں اس لیے انہوں نے مجھے لکھا ہے کہ میں صفائی نہیں ہے کروں گا کیونکہ اگر میں صفائی کر دوں تو انہیں صفائی کا احساس نہیں ہوگا۔لیکن دراصل جس نے یہ بات کہی تمسخر سے کہی ورنہ کیا کوئی صحیح الدماغ آدمی کسی غیر ملک والے کو کہہ سکتا ہے کہ تم سارا دن جھاڑوی دیتے پھر و؟ مگر یاد رکھو! اس قسم کا تمسخر اسلام میں منع ہے۔بجائے توجہ دلانے والے سے تمسخر کرنے کی کے تم کو چاہیے کہ اس غلاظت کے نقص کو دور کرنے کی کوشش کرو۔تمہاری یہ حالت باہر سے آنے والے لیے یقیناً ٹھوکر کا موجب ہوگی۔باہر سے آنے والا شخص تمہاری بات کو یا تو بُرا مناتا ہے یا اس کی نقل کرتا ہے۔اب یہ دنیا کے لیے کتنی مصیبت کا دن ہو گا کہ ایک نو مسلم قربانی کر کے تمہارے پاس آئے ہی اور تمہاری حالت کو دیکھے اور کہے سُبحَانَ اللہ یہ مومنوں والا کام ہے۔انگریز جن کے پاخانے کی سونے کے کمرے معلوم ہوتے ہیں یہاں آئیں گے اور دیکھیں گے کہ یہاں ہر جگہ پاخانہ پھرا جارہا ہے تو وہ واپس جا کر اپنے ساتھیوں سے کہیں گے کہ ہم ربوہ گئے تھے۔ہم نے دیکھا ہے کہ مومنوں کا یہی کام ہوا کرتا ہے کہ بجائے گھر کے باہر پاخانہ کیا کریں تو اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ آخر تمہاری بیویاں