خطبات محمود (جلد 30) — Page 405
$1949 405 خطبات محمود بد بودار چیز کھا کر ان میں نہ آؤ۔1 آپ نے فرمایا جب کوئی شخص پیاز یا لہسن کھا کر مسجد میں آتا ہے فرشتے مسجد سے بھاگ جاتے ہیں 2ے لیکن واقعہ تو یہ ہے کہ جہاں لہسن اور پیاز کے کھیت ہوتے ہیں فرشتے وہاں بھی جاتے ہیں۔پھر آپ کے اس قول کا کیا مطلب؟ اس کا مطلب یہ تھا کہ فرشتے ایسے آدمیوں کی دعاؤں کو آسمان تک نہیں لے جاتے جو بد بودار چیزیں کھا کر مسجد میں آتے ہیں اور دوسروں کی تکلیف کا موجب بنتے ہیں۔غرض اسلام نے صفائی کا احساس بڑے زور سے دلایا ہے۔لیکن ہمارے ملک میں صفائی کا احساس نہیں۔کپڑا ہے تو ہمارے ملک کے لوگ اسے غلیظ رکھتے ہیں۔بالعموم یہ ہوتا ہے کہ کپڑا پہنا نیا تھا مگر جب اُتارا تو پھٹ چکا تھا درمیان میں انہیں اتارنے کا خیال نہیں آتا۔میں جب حج کے لیے گیا تھا تو علیحدہ مکان میں ٹھہرا تھا اس لیے مجھے تو وہاں کے گھر یلو حالات کا تجربہ نہیں۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الاول ایک سال تک مکے میں رہے تھے اس لیے آپ کو وہاں کے گھریلو معاملات کا تجربہ تھا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جس گھر میں میں رہتا تھا وہ متوسط درجہ کا گھر تھا۔گھر کا مالک جب شام کو گھر آتا تو اس کی بیوی اسے اور گرتا دے دیتی اور اس کا دن کا پہنا ہوا گرتا اُتروا لیتی۔ایک یہ تو دور کی بات ہے ایسا کرنا تو بڑے جہاد کو چاہتا ہے لیکن جو ابتدائی چیزیں ہیں ان کی طرف تو ضرور توجہ کرنی چاہیے۔یہ تو تم کہہ سکتے ہو کہ کوئی تمہاری گائے بھینس چرا کر لے گیا مگر یہ نہیں کی کہہ سکتے کہ اردگرد کے لوگ چوری سے پاخانہ پھر گئے۔پاخانہ پھرنے والے تم خود ہو۔پھر صفائی میں کی تمہارے لیے مشکل ہی کیا ہے۔اگر تم خود پاخانہ نہیں پھرو گے تو گندگی نہیں ہو گی۔تمہاری بیویاں پاخانہ نہیں پھریں گی تو گندگی نہیں ہوگی تمہارے بچے پاخانے نہیں پھریں گے تو گندگی نہیں ہوگی۔پاخانہ غیر تو کرتے نہیں۔اور اب تو یہ اور بھی تمہارے لیے تازیانہ کا سبب بن گیا ہے کہ غیر ملکوں کے لوگ احمدیت میں داخل ہو رہے ہیں اور وہ یہاں آتے ہیں۔اور وہ جب تمہاری اس حالت کو دیکھیں گے تو چونکہ ان میں صفائی کا احساس زیادہ ہوتا ہے ( دل کی صفائی کا تو انہیں خیال بھی نہیں آتا ہاں جسم کی صفائی کا وہ بہت خیال رکھتے ہیں ) تو ان کے لیے تمہاری یہ حالت ابتلا کا موجب بن جائے گی۔مثلاً ربوہ ہے مقامی آدمیوں کو بھی یہاں سر چھپانے کے لیے جگہ نہیں ملتی لیکن بیرونی ممالک میں جماعت ترقی کر رہی ہے اور غیر ممالک کے احمدی یہاں آنے شروع ہو گئے ہیں۔مثلاً مسٹر کنزے جرمنی سے کی۔