خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 380

* 1949 380 خطبات محمود پیشوں ، ملازمتوں اور تجارتوں وغیرہ کی طرف سے اپنی توجہ ہٹا کر اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے چل پڑو۔گویا قیامت کے روز اسرافیل سے بگل بجانے کا جو کام لیا جائے گا وہی کام یہاں مؤذن سے لیا جاتا ہے۔جس طرح قیامت کے روز اسرافیل بنگل بجائے گا تو تمام روحیں اپنی اپنی جگہوں سے اُٹھیں گی اور بنگل کی آواز کی طرف بھاگ پڑیں گی۔اسی طرح اس کے نقش قدم پر مؤذن جمعہ کی اذان دیتا ہے تو اُس جگہ کے تمام لوگوں کو یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اُس کی آواز کی طرف بھاگ پڑیں۔عیدالفطر اور عیدالاضحیہ کا بھی یہ حال ہے۔ان کے متعلق تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا ہے کہ تمام مرد، عورتیں اور بچے جمع ہو جائیں، حائضہ بھی اگر چہ اسے نماز معاف ہے عید کے میدان میں جائے۔5 گویا سوائے معذور کے جو اتناسخت بیمار ہو کہ وہاں نہ جا سکے یا کسی ایسے شخص کے جو کہیں جنگلوں میں پھر رہا ہو باقی ہر ایک کے لیے عید کی نماز کے لیے جانے کا حکم ہے۔یہ فرق کیوں کیا گیا ہے؟ حضرت نوح علیہ السلام کے زمانہ میں تمام لوگوں کو کیوں نہیں کہا گیا کہ سب جمع ہو کر عید مناؤ ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانہ میں تمام لوگوں کو کیوں نہیں کہا گیا کہ سب جمع ہو کر عید مناؤ؟ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ میں تمام لوگوں کو اجتماعی عید منانے کا کیوں حکم نہیں دیا گیا ؟ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ میں تمام لوگوں کو اجتماعی عید منانے کا کیوں حکم نہیں دیا گیا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہ کیوں کہا گیا؟ اسی لیے کہ حضرت نوح علیہ السلام ساری دنیا کو جمع کرنے کے لیے نہیں آئے تھے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام ساری دنیا کو جمع کرنے کے لیے نہیں آئے تھے۔حضرت موسی علیہ السلام ساری دنیا کو جمع کرنے کے لیے نہیں آئے تھے۔حضرت عیسی علیہ السلام ساری دنیا کو جمع کرنے کے لیے نہیں آئے تھے۔اگر کوئی نبی ساری دنیا کو ایک نقطہ مرکزی پر جمع کرنے کے لیے آیا ہے تو وہ صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔پس مسلمانوں کی عید کو اجتماعی عید قرار دیا گیا ہے اور انہیں کہا گیا ہے کہ تمہاری سچی عید تب ہو گی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی غرض کو پورا کیا جائے۔پس ہر جمعہ ہمیں اس کام کی طرف توجہ دلاتا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی وجہ سے مسلمانوں کے ذمہ لگایا گیا ہے۔ہر جمعہ جو ختم ہوتا ہے وہ اس شخص کے لیے برکت لکھ جاتا ہے جس نے اسلام کی اشاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اسے گزارا۔اور ہر جمعہ جو آتا ہے اور کوئی مسلمان