خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 366 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 366

* 1949 366 خطبات محمود اسلام کی بے انتہا محبت ہے۔جب میری تکلیف بڑھ گئی تو گھبراہٹ اور بے چینی کی حالت میں میں اُس دوست کے باغ میں گیا۔وہ باغ میں کام کر رہے تھے۔میں نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہا بھائی ! دوسرے لوگوں کو تو شاید پتا نہیں ہو گا تم تو میرے حالات سے اچھی طرح واقف ہو۔تم جانتے ہو کہ میں مومن ہوں۔اُس دوست نے میری بات کا کوئی جواب نہ دیا اور کام میں لگا رہا۔میں نے پھر کہا دیکھو! ہم میں آپس میں کتنی محبت تھی۔دوسروں کو تو شاید کوئی شبہ ہو تو تو میرا راز دار ہے۔میں تجھ سے پوچھتا ہوں کہ کیا میں منافق ہوں؟ اُس نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا اور اپنے کام میں مشغول رہا۔پھر ی میں نے تیسری دفعہ کہا یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ تم میرے اچھی طرح واقف ہوتے ہوئے بھی گواہی ہے نہیں دیتے۔تم میرے راز دار ہو اور جانتے ہو کہ میں منافق نہیں ہوں۔وہ صحابی بیان کرتے ہیں جب میں نے تیسری دفعہ اُسے مخاطب کیا تو اُس نے میری طرف نہیں آسمان کی طرف منہ کر کے کہا خدا اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔جس کا مطلب یہ تھا کہ میرے کان اور آنکھ جھوٹے ہیں۔میں تمہیں اگر مومن سمجھتا ہوں تو یہ میری غلطی ہوگی۔وہ صحابی کہتے ہیں اس بات کا مجھ پر گہرا اثر ہوا اور میری حالت کی پاگلوں کی سی ہو گئی۔میں وہاں سے پیچھے ہٹا اور جنون کی حالت میں دروازہ کی طرف بھی نہ گیا بلکہ دیوار پر سے گودا اور مدینہ کی طرف جانا شروع کیا۔جب میں مدینہ میں داخل ہوا تو ایک اجنبی شخص نے آواز ا دی اور دریافت کیا کہ فلاں شخص کہاں رہتا ہے؟ میں نے کہا وہ میں ہی ہوں۔اُس نے کہا میں غستان کے بادشاہ کی طرف سے تمہارے نام ایک پیغام لایا ہوں۔اُس نے میرے ہاتھ میں ایک خط دے دیا۔میں نے وہ خط پڑھا تو اُس میں لکھا تھا مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہاری قوم کے سردار نے تمہارے ساتھ بہت بُرا سلوک کیا ہے۔ہم ایک عرب بادشاہ کی حیثیت سے اُسے بُرا مناتے ہیں اور تمہیں دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے پاس چلے آؤ تمہاری شان کے مطابق تمہارا اعزاز و اکرام کیا جائے گا۔وہ صحابی بیان کرتے ہیں جب میں نے وہ خط پڑھا تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ گویا کسی نے میری آنکھیں کھول دی ہیں۔میرا غصہ جاتا رہا۔میں نے اپنا نام لے کر کہا اے شخص! یہ شیطان کا آخری حربہ ہے۔میں۔پیغامبر کو اشارہ کیا کہ میرے ساتھ چلے آؤ۔رستہ میں کسی نے بھٹی جلائی ہوئی تھی۔میں نے وہ خط بھٹی میں ڈال کر کہا جاؤ! اور اپنے بادشاہ سے کہہ دو کہ اس نے تمہارے خط کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے۔یہ ابتلا کا آخری مرحلہ تھا۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الہام ہوا کہ ان تینوں کو معاف کر دو۔چنانچہ آپ نے مسجد میں معافی کا اعلان کر دیا 3 تو دیکھو ابغستان کے بادشاہ نے تین چار سو میل سے اس صحابی کے