خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 346

$ 1949 346 خطبات محمود 1 جاتے تو آپ باتیں کر بھی لیتے لیکن عام طور پر آپ بہت کم بولتے تھے۔شام کے وقت آپ کو یہ دورہ عام ہوتا تھا۔اس مرض کے لیے ہلکا چلنا پھرنا مفید ہے لیکن یہ چیز بھی بعض لوگوں کے لیے ابتلاء کا ای موجب بن جاتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی عصر سے شام تک باہر سیر کے لیے کی تشریف لے جاتے تھے۔میں نے بھی دیکھا ہے کہ اگر آہستہ آہستہ چہل قدمی کی جائے تو صحت پر اس مرض کا زیادہ اثر معلوم نہیں ہوتا۔لیکن اگر بیٹھے ہو تو کھڑے ہو جاؤ یا کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ یا لیٹے ہوئے کروٹ بدل لو تو اس مرض کا اثر زور سے ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں تو جماعت بہت تھوڑی تھی اور اکثر لوگ ٹھوکریں کھا کھا کر احمدیت میں داخل ہوئے تھے۔اس لیے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عصر سے شام تک سیر کے لیے چلے جانے اور پھر شام کی نماز ہے میں حاضر نہ ہو سکنے پر معترض نہیں ہوتے تھے۔لیکن یہ بات آجکل کے لوگوں کے لیے زیادہ ٹھوکر کا موجب ہے کہ عصر سے شام تک میں باہر سیر کر کے آؤں اور پھر کہوں کہ میں نماز کے لیے مسجد میں نہیں ہے آسکتا کمزور لوگ اس بات کی برداشت نہیں کر سکیں گے۔بہر حال جو مشیت الہی ہے وہ تو ضرور ہو کر رہے گی۔اس مرض کا حملہ مجھ پر کوئٹہ میں بھی ہوا ہے تھا لیکن تین چار دن کے بعد وہ حملہ ہٹ گیا تھا۔اب کے یہ حملہ لمبا ہوا ہے۔بارہ تیرہ دن کے قریب ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک یہ حملہ برابر جاری ہے۔اس صورت میں بولنا یوں بھی مشکل تھا لیکن ؟ مین تجویز کی گئی کہ آج جمعہ کی نماز اس جگہ پر ادا کی جائے جہاں مستقل طور پر مسجد بنائی جائے گی تو نت کی طرف سے یہ عذر کیا گیا کہ ہمارے پاس سائبان کم ہیں لوگ دھوپ میں کھڑے رہیں گے، پھر سائبان وغیرہ کو وہاں اُٹھا کر لے جانا پڑے گا لیکن میں نے پسند کیا کہ جب تک خدا تعالی توفیق دے جمعہ کے لیے ہم اس جگہ کو استعمال کریں جہاں مستقل طور پر مسجد کا بنایا جانا تجویز کیا گیا ہے خواہ خطبہ چھوٹا ہو جائے کیونکہ لمبا خطبہ پڑھنا ضروری نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام طور پر بہت ہی مختصر خطبہ فرمایا کرتے تھے اور احادیث میں آتا ہے کہ آپ کے خطبہ میں نماز سے نصف وقت لگتا تھا۔3 آج میں جس مضمون کو بیان کرنا چاہتا ہوں وہ خاص اہمیت رکھتا ہے۔یوں بھی میں نے ربوده ای آنا تھا لیکن میں نے مناسب سمجھا کہ اس مضمون کو آج جمعہ میں ہی بیان کر دوں تا جہاں ربوہ کی نئی بنیاد رکھی جارہی ہے وہاں اس کی بھی نئی بنیاد ہو جائے۔چند مہینوں سے میں غور کر رہا تھا کہ ہماری تبلیغ