خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 282

* 1949 282 خطبات محمود طالب علم آئیں اور ہمارے کالج میں داخل ہو کر تعلیم حاصل کریں۔خالی کالج بنا دینے سے ہماری غرض پوری نہیں ہو سکتی۔اس غرض کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ باہر سے بکثرت طلباء آئیں اور تعلیم الاسلام کا لج میں داخل ہو کر اپنی تعلیم کو مکمل کریں۔ابھی چند دن ہوئے مجھے ایک جاہل نے خط لکھا ہے جو کالج کا ذکر کرتے ہوئے مجھے اتفاقایادی آ گیا۔اس خط میں اس نے بہت سے اعتراضات کیے ہیں جن میں سے ایک اعتراض اس نے یہ بھی کیا ہے کہ ناصر احمد کو کالج کا پرنسپل کیوں بنایا گیا ہے؟ اسے باہر کسی ملک میں تبلیغ کے لیے کیوں نہیں بھیج دیا جاتا؟ اس کی جگہ تو ایک عیسائی بھی پرنسپل رکھا جا سکتا ہے اور وہ ناصر احمد سے زیادہ بہتر کام کر سکتا ہے ہے۔یہ لکھنے والے کی کمال درجہ کی جہالت ہے کہ طالب علم جس کی زندگی ایک نہایت ہی قیمتی چیز ہوتی ہے اور جس کی حفاظت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس کو وہ کوئی اہمیت دینے کے لیے تیار نہیں بلکہ سمجھتا ہے کہ ایک عیسائی پر نسپل بھی لڑکوں کی اس طرح تربیت کر سکتا ہے جس طرح ناصر احمد کر رہا ہے۔اول تو مالی نقطہ نگاہ سے ہی کوئی اور پرنسپل رکھا جائے تو وہ ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار سے کم نہیں ہے لے گا۔لیکن اگر اس فائدہ کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو سوال یہ ہے کہ اگر ہم نے ہندو اور عیسائی ہی پرنسپل اور پروفیسر رکھتے ہیں تو پھر ہمیں اپنا الگ کالج بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے۔دوسرے کالجوں میں بھی عیسائی پروفیسر اور پرنسپل ہیں ان میں داخل ہو کر لڑ کے تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ہماری غرض تو اس کالج کو الگ قائم کرنے سے یہ ہے کہ احمدی طلباء احمدی اساتذہ سے تعلیم حاصل کر کے احمدیت کی روح اپنے اندر پیدا کریں اور یہ روح نہ کسی دوسرے کالج میں پڑھ کر پیدا ہو سکتی ہے نہ عیسائی پرنسپل رکھ کر پیدا ہوسکتی ہے۔اس روح کے پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنا کالج ہو، اپنا ماحول ہو اور اپنے اساتذہ کی زیر نگرانی تعلیم و تربیت کا کام ہو تا کہ ہماری آئندہ نسل اسلام اور احمدیت کے لیے کارآمد وجود ثابت ہو۔گزشتہ فسادات کی وجہ سے ہمارے کالج کے نتائج اچھے نہیں نکلے تھے مگر اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمارے کالج کا نتیجہ غیر معمولی طور پر نہایت شاندار رہا ہے جس سے پتا لگتا ہے کہ گزشتہ سال کے نتائج کی خرابی ان حالات کی وجہ سے تھی جو 1947 ء میں پیدا ہوئے۔اس سال ہمارے تعلیم الاسلام کالج کی ایک جماعت کا نتیجہ 90 فیصدی کے قریب رہا ہے جو ایک حیرت انگیز امر ہے