خطبات محمود (جلد 30) — Page 276
$ 1949 276 خطبات محمود کے متعلق اب ہمارا ارادہ ہے کہ وہ بھی ربوہ چلا جائے اور اس طرح ہم سب وہاں پہنچ کر ربوہ کی ترقی اور سلسلہ کی عمارتوں کی تعمیر کی طرف توجہ کریں۔ہمیں یہاں آئے ہوئے دو سال ہو چکے ہیں۔31 اگست 1947 ء کو میں یہاں آیا تھا اور آج 9 ستمبر 1949 ء ہے گویا دو سال آٹھ دن میرے اس قیام پر گزر گئے ہیں۔کچھ دوستوں پر اس سے کم زمانہ گزرا ہے کیونکہ وہ بعد میں آئے تھے اور کچھ دوست جو پہلے آگئے تھے ان پر اس سے زیادہ دن گزرے ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی مشیت کے ماتحت ہم جتنے عرصہ تک یہاں رہے اس میں ہمیں کئی قسم کے تجارب حاصل ہوئے۔قادیان کی رہائش کی وجہ سے جس طرح ہم دنیا سے الگ تھلگ رہتے تھے وہ بات یہاں نہیں تھی۔یہاں لوگوں سے میل جول پیدا کرنے کے زیادہ مواقع تھے اور یہ ایک نیا تجربہ تھا جس نے ہمیں بہت سے نئے سبق دیئے۔ان کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آئندہ بہت کچھ فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے منفی بھی اور مثبت بھی۔میں اس وقت دوستوں کی آگاہی کے لیے صرف یہ اعلان کرنا چاہتا ہوں کہ پہلے تو ہمارا ارادہ کی تھا کہ ہم پیر کے دن یہاں سے چلے جائیں مگر جیسا کہ احباب کو معلوم ہے میری بیوی ام متین کوئٹہ میں سخت بیمار ہوگئی تھیں۔وہاں علاج کے بعد کسی قدر آرام آ گیا تھا مگر یہاں آنے کے بعد لیڈی ڈاکٹر کو دکھایا گیا تو اس نے ایک ایسی بیماری کا شبہ پیدا کر دیا جو بہت خطرناک سمجھی جاتی ہے۔اس بیماری کے متعلق بعض ٹیسٹ ایسے کیے جانے ہیں جن کا نتیجہ پیر کے دن نکلے گا اس لیے اب اس نتیجہ کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا جا سکے گا کہ ہماری یہاں سے کب روانگی ہوگی۔آج ہی ایک دوسرے ڈاکٹر سے بھی مشورہ لیا لی گیا تھا۔انہوں نے لیڈی ڈاکٹر کی رائے سے اتفاق ظاہر نہیں کیا مگر ساتھ ہی کہا ہے کہ چونکہ ڈاکٹر نیا نے خود ملاحظہ کیا ہے اس لیے ٹیسٹ بہر حال ہو جانا چاہیے۔اس کے بعد ہم یہ فیصلہ کر سکیں گے کہ ہم یہاں سے کب روانہ ہوں۔اگر خدانخواستہ لیڈی ڈاکٹر کی رائے درست ہوئی تو پھر آپریشن کی ضرورت کی ہوگی اور اگر آپریشن نہ بھی ہو تب بھی شعاعوں کے ذریعہ ایک لمبے عرصہ تک علاج کرانا پڑے گا۔بہر حال اس پیر کو ہمارے جانے کا ارادہ ملتوی ہے۔اس کے بعد دوسری تاریخ ڈاکٹری مشورہ سے مقرر کی جائے گی۔میں جب جمعہ کے لیے آیا تو راستہ میں میں نے اتنی کثرت سے جماعت کے دوستوں کو نماز