خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 267 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 267

* 1949 267 خطبات محمود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن سے کرتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو لوگوں سے کہہ دے ہماری اتھارٹی پر ، تو اعلان کر دے ہماری تصدیق پر، کہ میری نماز، میری قربانی ، میری زندگی اور میری موت سب اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو رب العلمین یعنی سب جہانوں کا خدا ہے۔مَمَاتِی کے دوسرے معنے ظاہری موت کے ہوتے ہیں۔پہلے معنی کے لحاظ سے تو وہ موت تھی جو انسان دکھ اور تکلیف کی شکل میں اپنے اوپر وارد کر لیتا ہے۔اور اس سے کوئی شخص انکار نہیں کر سکتا کہ بنی نوع انسان کی خاطر جو موت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر وارد کی اُس کی مثال کہیں نظر نہیں آتی۔کسی عام انسان کی تو کیا کسی نبی میں بھی ایسی مثال نہیں پائی جاتی۔اب ہم موت کے دوسرے معنے لیتے ہیں جو جسم سے روح کی جُدائی کا نام ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میری ظاہری موت خدا تعالیٰ کے لیے ہے۔لوگ مرتے ہیں اور مرتے ہوئے اپنی تکلیف اور دکھ کی وجہ سے دوسروں کا خیال نہیں کرتے کیونکہ وفات کے وقت غیر معمولی تکلیف ہوتی ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے جس شخص کو وفات کے وقت زیادہ تکلیف ہوتی تھی میں خیال کرتی تھی کہ وہ گنہ گار ہے مگر جب میں نے آپ کی وفات دیکھی تو سمجھی یہ جھوٹی بات ہے 9 کیونکہ آپ کی نزع کی حالت نہایت تکلیف دہ تھی۔وفات کے وقت مرنے والوں کو عموماً یہ خیال ہوتا ہے ہے کہ وہ اپنا کام اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو سنبھال جائیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور بیماری کی وجہ سے جب ایسی حالت کو پہنچے کہ آپ کے لیے چلنا بھی مشکل ہو گیا تو ایک دن انجی آپ سہارا لے کر مسجد میں آئے اور صحابہ کو اکٹھا کیا۔فرمایا ہر ایک انسان آخری وقت میں کوئی نہ کوئی نصیحت کرتا ہے۔میں بھی تمہیں یہ نصیحت کرتا ہوں کہ یہ غلام بھی تمہاری طرح خدا تعالیٰ کے بندے ہیں اور تمہارے بھائی ہیں اُن کے ساتھ ہمیشہ نیک سلوک کرنا۔اور جو شخص یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ ان کی کے ساتھ نیک سلوک کرے یا انہیں اپنے برابر رکھ سکے اُسے چاہیے کہ انہیں آزاد کر دے۔لیکن جو شخص اُن سے کام لینا چاہتا ہے وہ انہیں اپنے برابر رکھے ، جو کچھ خود کھائے وہی انہیں کھلائے ، جو خود پہنے 6◉*