خطبات محمود (جلد 30) — Page 266
* 1949 266 خطبات محمود - عرب سے سینکڑوں میل باہر نکل جاتے ہیں۔انہی صحابہ میں بلال بھی تھے۔وہ شام چلے جاتے ہیں ہے اور دمشق جا پہنچتے ہیں۔ایک دن کچھ لوگ اکٹھے ہوئے اور انہوں نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں بلال اذان دیا کرتا تھا ہم چاہتے ہیں کہ بلال پھر اذان دے۔انہوں نے بلال سے کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔بلال نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں اذان نہیں دوں گا۔کیونکہ جب بھی میں اذان دینے کا ارادہ کرتا ہوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ مبارک میرے سامنے آ جاتا ہے اور میری برداشت سے یہ بات باہر ہو جاتی ہے۔حضرت عمرؓ بھی اُن دنوں دمشق آئے ہوئے تھے۔لوگوں نے آپ سے عرض کیا کہ آپ بلال سے کہیے کہ وہ اذان دے۔ہم میں وہ کی لوگ بھی ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے اور ہمارے کان ترس رہے ہیں کہ ہم بلال کی اذان سنیں۔اور ہم میں وہ بھی ہیں جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ نہیں دیکھا صرف باتیں سنی ہیں ان کے دل بھی خواہش رکھتے ہیں کہ اُس شخص کی اذان سن لیں جس کی اذان الاول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنا کرتے تھے۔حضرت عمرؓ نے حضرت بلال کو بلایا اور فرمایا لوگوں کی خواہش ہے کہ آپ اذان دیں۔آپ نے فرمایا آپ خلیفہ وقت ہیں، آپ کی خواہش ہے تو میں اذان دے دیتا ہوں لیکن میرا دل برداشت نہیں کر سکتا۔حضرت بلال کھڑے ہو جاتے ہیں اور بلند آواز سے اُسی رنگ میں اذان دیتے ہیں جس رنگ میں وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اذان دیا کرتے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو یاد کر کے آپ کے صحابہ جو عرب کے باشندے تھے اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور بعض کی چیچنیں بھی نکل گئیں۔حضرت بلال اذان دیتے چلے جاتے ہیں اور سننے والوں کے دلوں پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کو یاد کر کے رقت طاری ہو جاتی ہے 8 لیکن حضرت بلال جو حبشی تھے جن سے عربوں نے خدمتیں لیں، جنہیں عربوں سے کوئی خونی رشتہ نہیں تھا اور نہ بھائی چارے کا تعلق تھا ہم نے دیکھنا ہے کہ خود اُن کے دل پر کیا اثر ہوا۔وہ ی اذان ختم کرتے ہیں تو بیہوش ہو جاتے ہیں اور چند منٹ بعد فوت ہو جاتے ہیں۔یہ گواہی تھی غیر قوموں کی کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس دعوی پر کہ میرے نزدیک عرب اور غیر عرب میں کوئی فرق نہیں۔یہ گواہی تھی غیر قوموں کی جنہوں نے آپ کی محبت بھری آواز کوسنا اور اس کا اثر جو انہوں نے دیکھا اس نے انہیں یقین کروا دیا کہ اُن کی اپنی قوم ان سے وہ محبت نہیں کر سکتی جو محبت