خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 18

خطبات محمود 18 * 1949 یالکوٹ میں ہی ایک رؤیا ہوا ہے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ گویا میں قادیان میں ہوں اور قادیان میں بھی میں اُس کمرہ میں ہوں جس میں ابتدائی ایام میں ہماری پیدائش سے بھی پہلے جیسا کہ حضرت اماں جان کی روایت سے معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام رہا کرتے تھے۔مسجد کی سیڑھیاں اترتے ہوئے ایک دروازہ گول کمرہ کی طرف کھلتا ہے۔اُس کمرے سے گھر کی طرف جائیں تو اس کے ساتھ ایک کوٹھڑی ہے۔کوٹھڑی کے ساتھ ایک دالان ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ابتدائی ایام میں جب آپ نے میری والدہ سے شادی کی اسی دالان میں رہا کرتے تھے۔میں نے رویا میں دیکھا کہ میں اس دالان میں ہوں اور کسی شخص نے آکر مجھے تین ہزار پانچ سو پونڈ صدقہ کے لیے دیا ہے اور کہا ہے کہ آپ یہ رقم غرباء پر خرچ کر دیں۔جس وقت اس شخص نے یہ رقم دی ہے اُس وقت میرے پاس میری بیوی بشری بیگم بھی ہیں۔میں نے انہیں وہ روپیہ دیا اور کہا کہ یہ روپیہ نذیر کو دے دو۔نذیر احمد میرا ایک موٹر ڈرائیور ہے۔اس کا پورا نام نذیر احمد ہے لیکن رویا میں میں نے صرف نذیر کا لفظ ہی کہا ہے۔جب میری بیوی بشری بیگم مجھ سے وہ روپیہ لے کر چلی گئیں تو میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اتنی بڑی رقم میں نے کی ایک ہی شخص کو دے دی ہے۔بعض لوگ اعتراض کریں گے کہ اتنی بڑی رقم ایک ہی شخص کو کیوں دے دی گئی ہے۔میں اس اعتراض کا خود ہی جواب دیتا ہوں کہ آخر دینے والے نے وہ رقم مجھے ہی دی تھی اور اس نے خود ہی کہا تھا کہ یہ رقم جسے میں چاہوں دے دوں۔اس میں اعتراض کی کونسی بات ہے؟ پھر میں خود ہی یہ شبہ پیدا کرتا ہوں کہ گو میں نے وہ رقم ایک ہی شخص کو دے دی ہے اور مجھے اختیار تھا کہ جسے چاہوں وہ رقم دے دوں لیکن کیا میں ہر جگہ اعتراضات اور سوالات کے جواب دیتا رہوں گا۔اس پر میں نے سوچا کہ میں نذیر احمد سے کہوں گا کہ وہ روپیہ واپس کر دے لیکن میں پھر یہ خیال کرتا ہوں کہ روپیہ دے کر واپس لینا ٹھیک نہیں۔اس کے بعد میں ایک اور تجویز کرتا ہوں کہ اچھا میں اسے تحریک کروں گا کہ وہ اس روپیہ میں سے کچھ روپیہ واپس کر دے اور اس میں میں کچھ اپنے پاس سے ملا کر جماعت کو دے دوں گا تا کہ وہ جہاں چاہے اسے خرچ کرلے۔میرے دل میں اس قسم کے سوالات اور شبہات پیدا ہوتے ہیں اور میں رویا میں ہی ان کے جواب دیتا ہوں۔اتنے میں میری بیوی واپس آگئیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے وہ روپیہ نذیر کو کی۔