خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 232 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 232

$1949 232 خطبات محمود نہیں ہوتی قُل اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ میں بتایا ہے کہ بعض لوگ قوم کی خاطر نماز پڑھتے ہیں تا کہ وہ بڑے سمجھے جائیں لیکن میری نماز لوگوں کے دکھاوے کے لیے نہیں۔اور نہ صرف دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ میرا دل تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ دوسرے لوگ کی بھی ایسا کریں یا عبادت میں غفلت سے کام لیں۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرا دل چاہتا ہے کہ میں اپنی جگہ کسی اور کو امام مقرر کر دوں اور خود کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر ان کے سروں پر لکڑیوں کے گٹھے رکھوں اور ان لوگوں کے گھروں کو مکینوں سمیت جلان دوں جو عشاء اور فجر کی نمازیں ادا کرنے کے لیے مسجد میں نہیں آتے۔3 گویا یہ سوال تو الگ رہا کہ آپ کی نماز خدا تعالیٰ کے لیے تھی یا نہیں۔آپ نے فرمایا کہ میں تو یہ بھی برداشت نہیں کر سکتا دوسرے لوگ نمازیں پڑھنا ترک کر دیں۔پس ان صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عبادت کے ساتھ ایک طرف تو یہ شرط لگادی ہے کہ وہ غیر اللہ کے لیے نہیں۔اور دوسری طرف یہ کہا کہ غیر اللہ کوسجدہ کرنا تو بڑی بات ہے میں خدا تعالیٰ کو بھی اس لیے سجدہ نہیں کرتا کہ لوگ دیکھیں کہ میں عبادت کر رہا ہوں۔کسی کے عیدین اور جمعہ کی نمازوں میں چلے جانے کے صرف یہی معنے نہیں ہوتے کہ دوسرے لوگ سمجھ لیں کہ وہ خدا تعالیٰ سے بالکل باغی نہیں بلکہ یہ بھی ہوتے ہیں کہ وہ قوم کو احمق بنانے اور اس کی آنکھوں میں خاک تھی جھونکنے کے لیے تیار ہے۔پھر ایک شخص ایسا ہوتا ہے جس کی عبادت ماسوی اللہ کے لیے نہیں ہوتی اور نہ دکھاوے کی خاطر ہوتی ہے وہ خدا تعالیٰ کی خاطر ہی عبادت کرتا ہے لیکن وہ اس کے پاس اپنی ذاتی اغراض کے لیے جاتا ہے۔وہ خیال کرتا ہے کہ اگر میں نماز پڑھنا چھوڑ دوں تو خدا تعالیٰ مجھ سے ناراض ہو جائے گا یا ممکن ہے میری صحت خراب ہو جائے یا میں بیمار ہو جاؤں یا خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی اور عذاب کی آجائے۔پس وہ خوف کی وجہ سے نماز پڑھتا ہے خدا تعالیٰ کے لیے نہیں پڑھتا ہے۔اس کی نماز اللہ کے لیے کہلاتی تو ہے مگر وہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں کہلائے گی۔ایسا آدمی صرف ادنی درجہ کا مومن کی ہوگا۔کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے غضب سے ڈر کر نماز پڑھتا ہے۔اُس کے سامنے یہ سوال رہتا ہے کہ اگر میں نماز نہ پڑھوں تو میری دنیا اور عاقبت خراب ہو جائے گی۔حالانکہ خوف کا تعلق بالواسطہ ہوتا۔