خطبات محمود (جلد 30) — Page 215
$1949 215 خطبات محمود آیا ہوں۔مجھے نبوت کا انعام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور آپ کی غلامی میں ہی ملا ہے۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا تھا کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں یعنی انگشت شہادت اور وسطی کی طرح آپس میں ملے ہوئے ہیں اس کے محض اتنے ہی معنے تھے کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی نہیں آئے گا۔اور اگر آئے گا تو ایک رنگ میں وہ میں ہی ہوں گا۔اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ میں اور قیامت آپس میں دو انگلیوں کی طرح اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ میں فوت ہوا تو قیامت واقع ہو جائے گی۔اگر اس کے یہی معنی تھے تو آپ کی وفات کے بعد قیامت آجانی چاہیے تھی۔مگر تیرہ سو سال کا عرصہ گز گیا اور ابھی تک قیامت نہیں آئی بلکہ آپ کے دعوی کو لیا جائے تو اس پر قریباً چودہ سو سال کا عرصہ ہو چکا ہے۔پھر ابھی مسلمانوں کے اعتقاد کے مطابق مسیح اور مہدی نے بھی آنا ہے۔لیکن قیامت کے جو آثار اور علامات بیان کی جاتی ہیں وہ ابھی موجود نہیں۔قیامت دو ہی طرح آسکتی ہے۔اوّل اس طرح کہ دنیا کی مادی حیثیت ایسی ہو جائے کہ اس میں انسان رہ نہ سکے مگر یہ تغیر ابھی تک نظر نہیں آتا۔دوم اس طرح کہ اس کی اقتصادی حالت ایسی ہو جائے کہ اس میں کوئی آدمی نہ رہ سکے اور یہ تغیر بھی ابھی تک پیدا نہیں ہوا۔ایٹم بم کے متعلق جو عام طور پر تصور پایا جاتا ہے وہ بھی درست نہیں۔ایٹم بم سے چند بڑے بڑے شہروں کو ہی تباہ کیا جا سکتا ہے کیونکہ ایک ایک ایٹم بم پر دو تین کروڑ روپیہ خرچ آتا ہے اور اتنا روپیہ خرچ کرنے کے بعد وہ کونسی حکومت ہوگی جو اسے چھوٹے چھوٹے قصبات اور گاؤں پر پھینکنا شروع کر دے۔یہ تو چند بڑے بڑے شہروں کو تباہ کرنے کے لیے ہی استعمال کیا جا سکتا ہے جن کے متعلق یہ سمجھا جائے کہ اگر وہ شہر برباد ہو گئے تو قوم کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے گی یا اس کی قدر اقتصادی نقصان پہنچ جائے گا کہ وہ پھر اُٹھ نہ سکے گی۔ورنہ چھوٹے چھوٹے قصبات اور گاؤں ایٹم بم سے اسی طرح محفوظ ہیں جیسے ہوائی جہازوں سے پھینکے جانے والے دوسرے بموں سے۔اگر کوئی حکومت چھوٹے چھوٹے قصبات پر ایٹم بم پھینکنا شروع کر دے تو اس کا دیوالہ نکل جائے۔غرض ابھی تک کوئی ایسی چیز نظر نہیں آئی جو دنیا کے خاتمہ پر دلالت کرتی ہو۔پھر اقتصادی لحاظ سے بھی یہ دنیا ابھی ہزاروں سال تک باقی رہ سکتی ہے۔آجکل سب سے زیادہ اہم سوال خوراک کا ہے ހނ