خطبات محمود (جلد 30) — Page 214
* 1949 214 خطبات محمود ہو جاتی ہے اور مریض سمجھتا ہے کہ اسے یہ بوجھ چودہ یا اکیس دن تک اٹھانا پڑے گا۔لیکن ایک بیماری ایسی ہوتی ہے جو ہمیشہ ہمیش تک چلی جاتی ہے۔گویا کہ وہ تمام عمر کا روگ ہوتا ہے۔مثلاً سل، دق اور دمہ کی بیماریاں ہیں ان کے متعلق انسان کو یہ امید نہیں ہوتی کہ یہ جلدی ختم ہو جائیں گی۔بلکہ وہ سمجھتا ہے کہ ایک لمبے عرصہ تک مجھے یہ بیماریاں برداشت کرنا پڑیں گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کا بوجھ بھی ایسا ہی ہے جو قیامت تک کے لیے ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ سوائے حضرت موسی علیہ السلام کے کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس کی تعلیم ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک قائم رہی ہو۔زیادہ سے زیادہ عرصہ حضرت موسی علیہ السلام کی تعلیم کا ہے جو دو ہزار سال کے قریب رہی۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت کا بوجھ صرف دو ہزار سال کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک کے لیے ہے۔بعض لوگوں نے اپنے آپ کو تسلی دینے کے لیے قیامت کو بہت نزدیک کرنے کی کوشش کی ہے اور وہ بعض احادیث کے غلط معنے کر کے یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ کسی طرح یہ بوجھٹل جائے۔مثلاً وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَینِ 2 کے یہ معنے کرتے ہیں کہ میں اور قیامت دو انگلیوں کی طرح آپس میں ملے ہوئے ہیں۔یعنی جس طرح انگشتِ شہادت اور وسطی دونوں انگلیاں آپس میں ملی ہوئی ہیں اسی طرح میں اور قیامت آپس میں ملے ہوئے ہیں۔لیکن اگر قیامت آپ کے ساتھ اسی کی طرح ملی ہوئی تھی تو آپ کی وفات کے فوراً بعد نہ سہی دس میں سال کے بعد تو آ جانی چاہیے تھی ، پچاس سال کے بعد آجانی چاہیے تھی ، سو سال کے بعد آجانی چاہیے تھی ، دوسو یا تین سو سال کے بعد آ جانی چاہیے تھی۔مگر تیرہ سو سال سے اوپر عرصہ گزر گیا اور ابھی تک قیامت نہیں آئی۔دراصل اس حدیث کا یہ مطلب تھا کہ میرے اور قیامت کے درمیان کوئی نئی شریعت والا نبی نہیں آئے گا۔میرا زمانہ اور قیامت آپس میں ملتے ہیں اور خواہ قیامت دو کروڑ سال کے بعد ہی کیوں نہ آئے میرے اور اس کے درمیان کوئی اور شریعت نہیں آئے گی۔چنانچہ وہ بات تو غلط نکلی۔تمام مسلمان ہے سمجھتے تھے اور یہ بات سچی نکلی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے تیرہ سو سال کے بعد اگر کوئی نبی آیا بھی تو اس نے آکر یہی بات کہی کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جُدا نہیں ہوں۔میں آپ کے ہی خادموں میں سے ایک خادم ہوں اور آپ کے دین کی اشاعت کے لیے