خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 206 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 206

* 1949 206 خطبات محمود وقت لا ہور فون کیا گیا کہ کسی نہ کسی طرح ٹرانسپورٹ کا انتظام کیا جائے۔لیکن آٹھ دس دن تک کوئی جواب نہ آیا اور جواب آیا بھی تو یہ کہ حکومت کسی قسم کی ٹرانسپورٹ مہیا کرنے سے انکار کرتی ہے اس لیے کوئی گاڑی نہیں مل سکتی۔میں اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کا مطالعہ کر رہا تھا۔الہامات کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے ایک الہام نظر آیا بعد گیارہ " - 9 میں۔خیال کیا کہ گیارہ سے مراد گیارہ تاریخ ہے اور میں نے سمجھا کہ شاید ٹرانسپورٹ کا انتظام قمری گیارہ تاریخ کے بعد ہو گا مگر انتظام کرتے کرتے عیسوی ماہ کی 28 تاریخ آگئی لیکن گاڑی کا کوئی انتظام نہ ہو سکا۔28 تاریخ کو اعلان ہو گیا کہ 31 اگست کے بعد ہر ایک حکومت اپنے اپنے علاقہ کی حفاظت کی خود ذمہ دار ہوگی۔اس کا مطلب یہ تھا کہ انڈین یونین اب مکمل طور پر قادیان پر قابض ہو گئی ہے۔میں نے اُس وقت خیال کیا کہ اگر مجھے جانا ہے تو اس کے لیے فوراً کوشش کرنی چاہیے ور نہ قادیان سے نکلنا محال ہو جائے گا اور اس کام میں کامیابی نہیں ہو سکے گی۔ان لوگوں کے مخالفانہ ارادوں کا اس سے پتا چل سکتا ہے کہ ایک انگریز کرنل جو بٹالہ لگا ہوا تھا میرے پاس آیا اور اس نے کی کہا مجھے ان لوگوں کے منصوبوں کا علم ہے۔جو کچھ یہ 31 اگست کے بعد مسلمانوں کے ساتھ کریں گے اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔یہ باتیں کرتے وقت اُس پر رقت طاری ہوگئی لیکن اُس نے جذبات کو دبا لیا اور منہ ایک طرف پھیر لیا۔جب میں نے دیکھا کہ اب گاڑی وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں ہو سکتا اور میں سوچ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہام بعد گیارہ سے کیا مراد ہے تو مجھے میاں بشیر احمد صاحب کا پیغام ملا کہ میجر جنرل نذیر احمد صاحب کے بھائی میجر بشیر احمد صاحب ملنے کے لیے آئے ہیں۔دراصل یہ اُن کی غلطی تھی۔وہ میجر بشیر احمد صاحب نہیں ہے تھے بلکہ ان کے دوسرے بھائی کیپٹن عطاء اللہ صاحب تھے۔جب وہ ملاقات کے لیے آئے تو میں حیران تھا کہ یہ تو میجر بشیر احمد نہیں۔ان کے چہرے پر تو چیچک کے داغ ہیں۔مگر چونکہ مجھے ان کا نام میجر بشیر احمد ہی بتایا گیا تھا اس لیے میں نے دورانِ گفتگو میں جب انہیں میجر کہا تو انہوں نے کہا تی میں میجر نہیں ہوں کیپٹن ہوں اور میرا نام بشیر احمد نہیں بلکہ عطاء اللہ ہے۔کیپٹن عطاء اللہ صاح کے متعلق پہلے سے میرا یہ خیال تھا کہ وہ اپنے دوسرے بھائیوں سے زیادہ مخلص ہیں اور میں سمجھتا تھا کہ اگر خدمت کا موقع مل سکتا ہے تو اپنے بھائیوں میں سے یہی اس کے سب سے زیادہ مستحق