خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 205

$1949 205 خطبات محمود میں نہایت نامساعد حالات تھے۔جب چودھری فتح محمد صاحب انگلستان تشریف لے گئے اُس وقت خواجہ کمال الدین صاحب وہاں چھائے ہوئے تھے اور ان کے سامنے چودھری صاحب کی مثال درخت کے نیچے پر بھیڑے 8 کی سی تھی لیکن ان حالات کے باوجود چودھری صاحب۔انتھک محنت کے بعد وہاں مشن قائم کیا اور ایسے طور پر کیا کہ ہمیں احساس ہو گیا کہ اسے آئندہ بھی جاری رکھنا چاہیے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر چودھری صاحب وہاں نہ جاتے تو ہم انگلستان میں تبلیغی کام جاری نہ رکھ سکتے۔امریکہ میں مفتی محمد صادق صاحب گئے اور انہوں نے عظیم الشان کام کیا۔امریکہ میں ہم مسجد بنانا چاہتے تو شاید آج تک بھی نہ بنا سکتے۔مفتی صاحب نے وہاں خود ہی ایک مکان بے پوچھے لے لیا اور اس کا نام مسجد رکھ دیا اور پھر ہمیں لکھ دیا کہ میں نے اس اس طرح کیا ہے۔اس کے بعد ہم اس کو قائم رکھنے کے لیے مجبور ہو گئے۔اسی طرح شام میں مولوی جلال الدین صاحب شمس نے کام کیا ہے اور پھر انہوں نے فلسطین میں بھی جماعت کو قائم کیا۔یا پھر دوبارہ چودھری فتح محمد صاحب کو فتنہ ارتداد کے وقت ملکانہ میں کام کرنا پڑا۔پیغامی فتنہ کے وقت صدر انجمن احمدیہ کی مضبوطی کا کام کرنے کا موقع چودھری نصر اللہ خاں صاحب مرحوم کو ملا۔غرض متفرق اوقات میں متفرق کام نکلتے ہیں جو چند مخصوص آدمی کرتے ہیں۔ان کے علاوہ کوئی اور آدمی وہ کام نہیں کرسکتا۔جماعتی طور پر ہم پر ایک بہت بڑا ابتلاء 1947ء میں آیا اور الہی تقدیر کے ماتحت ہمیں قادیان چھوڑنا پڑا۔شروع میں میں سمجھتا تھا کہ جماعت کا جرنیل ہونے کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ قادیان میں لڑتا ہوا مارا جاؤں ورنہ جماعت میں بزدلی پھیل جائے گی۔اور اس کے متعلق میں نے باہر کی جماعتوں کو چٹھیاں بھی لکھ دی تھیں لیکن بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے مجھ پر یہ امر منکشف ہوا کہ ہمارے لیے ایک ہجرت مقدر ہے اور ہجرت کی ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔ویسے تو لوگ اپنی جگہیں بدلتے ہی رہتے ہیں مگر اُسے کوئی ہجرت نہیں ہے کہتا۔ہجرت ہوتی ہی لیڈر کے ساتھ ہے۔پس میں نے سمجھا کہ خدا تعالیٰ کی مصلحت یہی ہے کہ میں قادیان سے باہر چلا جاؤں۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کے مطالعہ سے میں نے سمجھا کہ ہماری ہجرت یقینی ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا کہ مجھے قادیان چھوڑ دینا چاہیے تو اُس کی