خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 188 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 188

* 1949 188 خطبات محمود جمع شدہ زنگ کو رمضان کا مہینہ دور کرتا ہے۔۔دنیا میں مختلف قسم کے زہر ہوتے ہیں۔بعض زہروں سے کچھ حصہ جسم سے خارج ہوتا ہے اور کچھ حصہ جسم کے اندر باقی رہتا ہے۔وہ انسان کی صحت میں حارج نہیں ہوتا۔لیکن آہستہ آہستہ اتنی مقدار میں جمع ہو جاتا ہے کہ طبیب سمجھتا ہے کہ اس کا نکالنا ضروری ہے۔روزانہ نمازوں سے جو زہر دور ہوتے ہیں وہ ایسے ہی ہیں جیسے انسان روزانہ کھانا کھاتا ہے یا پانی پیتا ہے تو ان کے مفید اجزاء خون کی شکل میں بدل جاتے ہیں اور زہریلے مادے پسینہ اور پاخانہ کی شکل میں خارج ہوتے رہتے ہیں۔اس طرح اس کی صحت برقرار رہتی ہے۔یہ زہریلے مادے اگر خارج نہ ہوں تو ڈاکٹر ملین 1 پسینہ آور اور پیشاب آور دوائیں دیتے ہیں اور اس طرح وہ زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں۔اسی طرح ان روحانی زہروں کو جو روزانہ پیدا ہوتے ہیں اور روح کو گندہ کرتے رہتے ہیں نماز میں باہر نکالتی رہتی ہیں۔لیکن ان زہروں کا ایک حصہ ایسا بھی ہوتا ہے جو مخفی رہتا ہے اور جسم کے اندر آہستہ آہستہ جمع ہوتا رہتا ہے۔اس کی مقدار بہت تھوڑی ہوتی ہے لیکن ہوتے ہوتے وہ اتنی مقدار میں جمع ہو جاتا ہے کہ ہمارا روحانی طبیب یعنی خدا تعالیٰ ضروری سمجھتا ہے کہ اسے نکال دیا تی جائے۔غرض جیسے چند گھنٹوں کے زہر کو دور کرنے کے لیے دن بھر میں پانچ نمازیں رکھی گئی ہیں اسی طرح سال بھر کے جمع شدہ زہروں کو دور کرنے کے لیے سال میں رمضان کا ایک مہینہ رکھا گیا ہے جیسے پرانے زمانہ میں اطباء کا یہ طریق تھا کہ وہ امراء کو سال میں ایک مہینہ صرف مَاءُ الْجُبن دیتے تھے اس کے علاوہ کوئی غذا نہیں دیتے تھے۔اس کے بعد وہ یہ سمجھتے تھے کہ سال بھر کے زہر نکل گئے جی اور اب مریض ایک نئی زندگی لے کر کام کرے گا۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے ایک علاج روزانہ پیدا کی ہونے والے زہروں کے لیے رکھا ہے اور ایک علاج سال بھر کے جمع شدہ زہروں کو دور کرنے کے لیے رکھا ہے۔یعنی ان روحانی زہروں کو جو روزانہ پیدا ہوتے ہیں دور کرنے کے لیے دن بھر میں پانچ نمازیں رکھ دی ہیں اور سال بھر کے جمع شدہ زہروں کو دور کرنے کے لیے رمضان کا مہینہ رکھا ہے کیا ہے۔دنیا میں انسان پر جو ابتلا آتے ہیں وہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک ابتلاوہ ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور ایک ابتلا وہ ہوتا ہے جو بندہ اپنے لیے خود پیدا کر لیتا ہے۔ال