خطبات محمود (جلد 30) — Page 147
$ 1949 147 خطبات محمود مدینہ پہنچ لینے دو میں جو سب سے زیادہ معزز ہوں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نَعُوذُ بِاللهِ سب سے زیادہ ذلیل ہیں وہاں سے باہر نکال دوں گا۔اس کے بیٹے نے یہ بات سُن لی۔لشکر جب واپس ہوا اور مدینہ کی دیوار میں نظر آنے لگیں، بہنیں اپنے بھائیوں کو، ماں باپ اپنے بیٹوں کو اور ہے بیویاں اپنے خاوندوں کو لینے کے لیے مدینہ سے باہر آئیں۔جب ہر شخص اپنے عزیز کو ملنے کے لیے بیتابانہ آگے بڑھنا چاہتا تھا عبداللہ بن اُبی بن سلول کے لڑکے نے اپنی تلوار سونت لی اور مدینہ کی ایک گلی کے سرے پر کھڑا ہو گیا اور اپنے باپ سے مخاطب ہو کر کہا تم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ فقرہ کہا تھا کہ میں جو سب سے زیادہ معزز ہوں مدینہ جا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو سب سے زیادہ ذلیل ہیں باہر نکال دوں گا۔خدا کی قسم! میں تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔جب تک تم یہ نہ کہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں اور تم سب سے زیادہ ذلیل ہو میں تمہیں شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا۔عبداللہ بن ابی بن سلول نے اپنے بیٹے کو بہتیرا ٹالنا چاہا اور کوشش کی کہ کسی طرح یہ بات ٹل جائے لیکن بیٹا نہ مانا۔اس نے کہا کہ اگر تم یہ نہ کہو گے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں اور میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں تو میں ہے تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا۔آخر اسے یہ فقرہ کہنا پڑا اور سارے مدینہ کے سامنے اس نے یہ کہانی کہ میں سب سے زیادہ ذلیل ہوں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے زیادہ معزز ہیں۔11 تب اس کے بیٹے نے کہا تم اب گزر جاؤ، تم سب سے زیادہ ذلیل ہو اور تم نے اس بات کا اقرار کرلیا ہے۔یہ الفاظ کہنے والا بیٹا تھا اور جس کو یہ الفاظ کہے تھے وہ باپ تھا۔غرض جس شخص کے اندر ایمان پایا جاتا ہے وہ علامات سے اندازہ لگا کر منافق کو فوراً پہچان لیتا ہے۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ ! اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر شخص کو زنا کرتے ہوئے دیکھ لے تو کیا وہ اُسے قتل کر ڈالے؟ آپ نے فرمایا نہیں۔تمہارا کام یہ ہے کہ قاضی کے پاس جاؤ تم خود فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں ہو۔12 غرض اسلام نے کچھ اصول مقرر کیے ہیں۔اگر کوئی شخص ان اصولوں کو نہیں مانتا تو خدا تعالیٰ نے اس کے لیے کوئی قید نہیں لگائی۔وہ بیشک انہیں نہ مانے۔مگر جب تک وہ قرآن کریم