خطبات محمود (جلد 30) — Page 146
* 1949 146 خطبات محمود تھا کہ شیطان بھی ایک وجود ہے مگر یہ بات ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔آج میں نے شیطان کو دیکھ لیا ہے۔یہ شیطان ہے تم بھی اسے اچھی طرح دیکھ لو۔چا اپنا ہاتھ چھڑانا چاہتے تھے مگر وہ ان کا ہاتھ نہیں چھوڑتا تھا اور کہتا تھا دیکھ لو، پھر نہ کہنا ہمیں پتا نہیں لگا کہ شیطان کیا ہوتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس نے احمدیوں سے چھیڑ خانی چھوڑ دی۔پس اگر تم مومن ہو تو جب بھی تمہارے پاس کوئی شخص دوسرے کی بُرائیاں بیان کرے تو اسے بتا دو کہ تم منافق ہو۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ تم اصل آدمی کے پاس جا کر یہ بُرائیاں بیان نہیں کرتے۔اگر تم ایسا کرو گے تو وہ آئندہ جرأت نہیں کرے گا اور تمہارے ساتھی کے پاس جا کر بھی وہ تم ایسی باتیں نہیں کرے گا۔اور اگر وہ تمہارے جیسا جری نہیں تب بھی وہ خیال کرے گا کہ کہیں یہ بھی ایسی جرات نہ کرے۔اگر تم ایسا کرو گے تو تھوڑے دنوں میں اس کی منافقت دور ہو جائے گی۔اگر تم ایسا نہیں کرتے تو گویا تم اُسے منافقت میں اور زیادہ دلیر ہو جانے کا موقع دیتے ہو۔اور اُسے وہ بات کہنے کا موقع دیتے ہو جو عبداللہ بن اُبی بن سلول نے کہی۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ عبداللہ بن اُبی بن سلول نے کہا لَيُخْرِ جَنَّ الْاَعَةُ مِنْهَا الْاَذَل 10 جو شخص مدینہ میں اولا سب سے زیادہ معزز ہے نَعُوذُ بِاللہ سب سے ذلیل شخص یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا۔اسے یہ جرات ایسے ہی لوگوں نے دلائی تھی جو اسے دیکھ کر واہ واہ کرتے تھے۔وہ سمجھتا تھا میں ایک بڑا لیڈر ہوں، میں مدینہ میں سب سے زیادہ معزز ہوں اور میں مدینہ واپس جا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو نَعُوذُ بِاللہ سب سے زیادہ ذلیل ہیں باہر نکال دوں گا۔عبداللہ بن اُبی بن سلول کا دماغ منافقوں کی اس قسم کی باتوں کی وجہ سے خراب ہو گیا تھا۔لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کمال حاصل تھا کہ خدا تعالیٰ نے آپ کے اکثر ساتھی مومن پیدا کیے ہوئے تھے۔عبداللہ بن ابی بن سلول کا ایک بیٹا تھا وہ بھی اس لشکر میں شامل تھا تی جس کے سامنے عبداللہ بن اُبی بن سلول نے یہ بات کہی تھی۔وہ مدینہ کا بہت بڑا سردار تھا اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد سے پہلے مدینہ والوں نے اسے تاج پہنانے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔اُس نے اپنی شان کے دھوکا میں آکر کہ مدینہ والے اس کے سر پر تاج رکھنے والے تھے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے بھاگ کر وہاں پناہ گزیں ہوئے تھے یہ الفاظ کہے کہ مجھے