خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 136

$1949 136 خطبات محمود اُس کے آگے موتی ڈالیں یا گندم بہر حال قیدی ہے۔غرض موجودہ حکومت پہلی حکومت۔بہر حال بہتر ہے۔اب ہمیں اصلاح کرنے کا موقع حاصل ہے۔اُس حکومت میں اصلاح کرنے کا موقع حاصل نہیں تھا۔مگر بہر حال کہنے والوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سے انگریزوں کی حکومت بہتر تھی۔اب کانگرس والے بھی شور مچا رہے ہیں کہ انگریزوں کی حکومت موجودہ حکومت سے بہتر تھی۔غرض انگریزوں نے سینکڑوں سال تک ہندوستان پر حکومت کی اور ایسی حکومت کی کہ خود قیدی بھی اُن کی تعریف کرتے ہیں اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ قیدیوں کو جیل خانہ سے نکال دیا گیا ہے۔تم چاہے انہیں بیوقوف کہو یا احمق اُن میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ کاش! انہیں پھر قید خانہ کی زندگی مل جائے۔اس کی وجہ کیا تھی؟ یہ انگریزوں کی عقلمندی تھی ، اُن میں ایثار اور قربانی کا مادہ پایا جاتا تھا۔اگر تم بھی اپنی اصلاح کر لو ، لوگوں کے لیے اپنے آپ کو مفید بنالو، اُن کی کے لیے سکھ کا موجب بن جاؤ، اُن سے ہمدردی کرو، عقل سے کام لو اور انہیں عقل سکھاؤ تو تم ای آسانی سے اُن کے قلوب پر حکومت کر سکتے ہو۔یہ سب سے بڑی مصیبت ہے کہ ہم عقل سے کام نہیں لیتے۔بعض دفعہ حکومت بڑی سوچ بچار کے بعد ایک سکیم مرتب کرتی ہے لیکن ادنیٰ سے ادنیٰ آدمی بھی اس پر اعتراض کرنے لگ جاتا ہے۔ہم خود مہینوں کے بعد ایک سکیم بناتے ہیں لیکن بیوقوف لوگ اس پر اعتراض کرنے لگ جاتے ہیں حالانکہ وہ اُن مشکلات کو مد نظر نہیں رکھتے جن کو مدنظر رکھ کر وہ سکیم تیار کی گئی تھی۔اگر وہ لوگ اُس سکیم کو نہیں سمجھ سکتے تب بھی انہیں یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اُس پر اعتراض کریں۔انہیں یہ حق حاصل ہے کہ وہ اُسے سمجھنے کی کوشش کریں۔خدا تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔فرشتوں کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی لیکن انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس فعل پر اعتراض نہیں کیا بلکہ انہوں نے اسے سمجھنے کی کوشش کی۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب اپنی قوم کی گری ہوئی حالت کا احساس ہوا اور آپ نے خیال کیا کہ میری قوم کیونکر ترقی کرے گی اور خدا تعالیٰ کے وہ وعدے جو میری قوم کے حق میں ہیں کیونکر پورے ہوں گے تو آپ نے اس پر اعتراض نہیں کیا بلکہ اُسے سمجھنے کی کوشش کی۔جو شخص کسی بات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اُس کا علم بڑھے گا۔اور جو اعتراض کرتا ہے اُس کا علم گھٹے گا کیونکہ وہ حقیقت کو معلوم کرنے کی بجائے وسوسہ میں پڑ جاتا ہے اور وسوسہ میں پڑ جانے سے اعلیٰ مقام پر نہیں پہنچا جا سکتا۔تم وہ بلند مقام پیدا کرنے